سلامتی کونسل میں ایران پر بحث | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں گزشتہ روز ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام کے حوالے سے جرمنی، برطانیہ اور فرانس کی طرف سے ایک قرارداد کا مسودہ پیش کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ یا تو ایران یورینیم کی افزودگی بند کر دے یا پھر مزید اقدامات کا سامنا کرنے کے لیئے تیار رہے۔ امریکہ کے حمایت یافتہ اس مسودے میں ان اقدامات کی تفصیل نہیں بتائی گئی لیکن اقوامِ متحدہ میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق اس سے اقتصادی پابندیوں کا امکان بڑھ جاتا ہے بلکہ آخری حل کے طور پر فوجی حملہ بھی ہو سکتا ہے۔ روس اور چین کسی بھی قسم کی طاقت کے استعمال کی مخالفت کر رہے ہیں۔ اقوامِ متحدہ میں روس کے سفیر وتالی چورکن نے کہا ہے کہ ’ہم نہیں سمجھتے کہ اس مسئلے کو طاقت کے استعمال سے حل کیا جا سکتا ہے اور ابھی بھی اس کا سفارتی حل ممکن ہے۔ پھر ابھی آئی اے ای اے کو بھی بہت کام کرنا باقی ہے۔ ایسے میں اس مسئلے کا واحد حل سفارتی ذرائع کو استعمال کرنا ہے‘۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف بجلی کی پیداوار کے لیئے ہے اور اس کا جوہری اسلحہ بنانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ امریکہ نے کہا ہے کہ اگر سلامتی کونسل ایران کے خلاف کوئی اقدامات نہیں اٹھاتی تو وہ یکطرفہ طور پر ایسے اقدامات اٹھائے گا۔ اس نے دوسرے ممالک سے بھی کہا ہے کہ وہ بھی ایسا ہی کریں۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||