پابندیاں لگنے کا امکان نہیں: ایران | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کو امید ہے کہ روس اور چین اس پر جوہری پروگرام کے نتیجے میں لگنے والی ممکنہ پابندیوں کی مخالفت کریں گے۔ ایران کے وزیرِ خارجہ منوچہر متقی نے تہران میں کہا ہے کہ ویٹو کا حق رکھنے والی دو طاقتیں’ پابندیوں اور فوجی حملے کے خلاف ہیں‘۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک کے سفارت کار ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت کر رہے ہیں۔ منگل کو پیرس میں ہونے والی یہ ملاقات 9 مئی کو نیویارک میں ایران کے مسئلے پر امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس اور چین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے قبل ہو رہی ہے۔ یہ بات چیت اقوامِ متحدہ کی جانب سے جاری کردہ اس رپورٹ کے بعد ہو رہی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایران یورینیم کی افزودگی روکنے سے متعلق درخواستوں پر دھیان نہیں دے رہا۔ امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی چاہتے ہیں کہ اگر ایران یورینیم کی افزودگی روکنے پر تیار نہ ہو تو اسے پابندیاں لگانے کی دھمکی دی جائے جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ ’امریکہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہم پر حملہ کرنا چاہتا ہے‘۔ امریکہ سلامتی کونسل میں ایک نئی قرارداد پیش کرنا چاہتا ہے تا کہ ایران پر ممکنہ اقتصادی پابندیاں لگائی جا سکیں اور اس کے خلاف ضرورت پڑنے پر فوجی طاقت کا استعمال بھی کیا جا سکے۔ چین اور روس ایران کے خلاف پابندیاں لگانے اور طاقت کے استعمال کے حق میں نہیں جبکہ خود ایران پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی کسی بھی ایسی قرارداد کو مسترد کر دے گا جس کا تعلق اس کے جوہری پروگرام پر پابندیوں سے ہوگا۔ ایران امریکہ کے اس الزام کو بھی مسترد کرتا آیا ہے کہ وہ جوہری بم بنانے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیئے ہے۔ یاد رہے کہ جمعہ کو اقوامِ متحدہ کے جوہری ادارے کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ایران افزودگی روکنے سے متعلق سلامتی کونسل کی ڈیڈ لائن کی پاسداری میں ناکام رہا ہے۔ | اسی بارے میں جوہری توانائی مطلق حق ہے: نژاد 29 April, 2006 | آس پاس ایران ناکام رہا ہے: آئی اے ای اے28 April, 2006 | آس پاس جوہری تنازع، ایران کا ردعمل جارحانہ 28 April, 2006 | آس پاس ’ایران کو کسی کی پرواہ نہیں‘28 April, 2006 | آس پاس ایرانی رہنما کا امریکہ کو انتباہ26 April, 2006 | آس پاس ’یو این سے تعاون ختم کر سکتے ہیں‘25 April, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||