’یو این سے تعاون ختم کر سکتے ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کے نیشنل سکیورٹی چیف علی لاریجانی نے کہا ہے کہ اگرایران پر عالمی پابندیاں عائد کی گئیں تو وہ عالمی جوہری ادارے کے ساتھ تعاون ختم کر دے گا۔ تہران میں ہونے والی جوہری توانائی کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علی لاریجانی نے کہا کہ پابندیوں کی صورت میں ایران اپنے جوہری پروگرام میں تیزی بھی لا سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے ایران کو اٹھائیس اپریل تک مہلت دے رکھی ہے کہ اپنے جوہری پروگرام پر سے عالمی خدشات دور کرے وگرنہ اس پر پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔ ایران نے اسی مہینے اعلان کیا تھا کہ اس نے پہلی بار یورینیم افزودہ کرنے کی صلاحیت حاصل کر لی ہے۔ مغربی دنیا کا خیال ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانا چاہتا ہے جبکہ ایران اس بات کی تردید کرتا ہے۔ علی لاریجانی نے کہا کہ اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو ایران کا جوہری پروگرام زیر زمین چلا جائے گا۔ علی لاریجانی نے تیل کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے امکان کو بھی رد نہیں کیا۔ | اسی بارے میں ایٹمی پروگرام نہیں رکےگا: ایران13 April, 2006 | آس پاس ’ایران سے براہِ راست بات کریں‘ 17 April, 2006 | آس پاس ایران پر حملے کا راستہ کھلا ہے: بش19 April, 2006 | آس پاس ’پابندیاں لگانے پر اتفاق نہیں‘19 April, 2006 | آس پاس روس ایران کی مدد نہ کرے: امریکہ20 April, 2006 | آس پاس ایران ایٹمی ہتھیار بنارہا ہے: امریکہ22 April, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||