BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 13 April, 2006, 06:20 GMT 11:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایٹمی پروگرام نہیں رکےگا: ایران
ایران
محمد البرادعی ایران کو سمجھانے کے تہران پہنچ گئے
ایران کے صدر احمدی نژاد نے ایک بار پھر ملک کے جوہری پروگرام کو روکنے سے انکار کر دیا ہے۔

ان کا یہ بیان بین الاقوامی جوہری ادارے کے سربراہ محمد البرادعی کی تہران آمد کے موقع پر آیا ہے جنہوں نے کہا تھا کہ وہ ایران کو مذاکرات کی راہ پر لانے کی کوشش کریں گے۔ ایران کے صدر نےکہا کہ ایران کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے۔

البرادعی جمعرات کو ایرانی حکام سے ملاقات میں ملک کے جوہری پروگرام کے معاملےپر بات کریں گے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ ایرانی حکام سے سلامتی کونسل کی اس اپیل کو قبول کرنے کے لیے کہیں گے جس میں اس نے ایران کو جوہری پروگرام کو معطل کرنے کے لیے کہا ہے۔ اس کے علاوہ وہ ایران کے ساتھ اعتماد کی بحالی کے لیے اقدامات پر بھی بات کریں گے۔

محمد البرادعی کے ایران پہنچنے کے ایک روز پہلے ایران کے صدر نے اعلان کیا تھا کہ ایران یورینیم کو افزودہ کر کے ایٹمی صلاحیت رکھنے والے ملکوں کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے۔

ایران پہنچنے پر بین الاقوامی جوہری ادارے کے سربراہ نے کہا تھا کہ وہ ایران کو قائل کرنے کی کوشش کریں گے کہ وہ حل طلب معاملات کے حل تک یورینیم کی افزودگی کو بند کر دے۔

چین کے انسداد اسلحہ کے بارے میں ایک اعلیٰ اہلکار بھی جمعہ کو تہران میں ایرانی حکام سے مل رہے ہیں۔

گزشتہ ماہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران کو اٹھائیس اپریل تک کی مہلت دیتے ہوئے اس سے کہا تھا کہ یورینیم کی افزودگی معطل کرے اور جوہری توانائی کے عالمی ادارے کی درخواست کی تعمیل کرتے ہوئے زیادہ تعاون اور خود کو مزید شفاف بنائے۔

محمد البرادعی نے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کو اٹھائیس اپریل تک رپورٹ کرنا ہے کہ کیا ایران نے اقوام متحدہ کی تنبیہ پر کوئی عمل کیا ہے یا نہیں۔

محمد البرادعی کے ایران میں پہنچنے کے روز ایران کے جوہری پروگرام کے نائب سربراہ نے کہاہے کہ ایران یورینیم کی افزودگی کو بڑھانا چاہتا ہے اور وہ سینٹریفیوج کی موجودہ صلاحیت کو بڑھا کر 54000 ہزار تک لے جانا چاہتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد