مذاکرات: برادعی ایران جائیں گے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایٹمی امور پر نگرانی کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے کے سربراہ محمد البرادعی ایران کے ایٹمی پروگرام پر مذاکرات کے لیے آئندہ ہفتے تہران جائیں گے۔ تہران مذاکرات کے بعد آئی اے ای اے کے سربراہ اپریل کے آخر میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو اپنی رپورٹ پیش کریں گے جس میں وہ یہ بتائیں گے کہ ایران یورینیم کی افزودگی روکنے کے لیے ان کے اس مطالبے پر عمل کرنے کے لیے تیار ہے یا نہیں۔ ایران اس مطالبے کو گزشتہ ہفتے ہی عام اعلان میں مسترد کر چکا ہے۔ ایٹمی تنصیبات کے لیے اقوام متحدہ کے معائنہ کار جمعہ کو ایران پہنچے ہیں اور وہ ناتانز میں ایٹمی توانائی کے پلانٹ سمیت کئی مقامات کا دورہ کریں گے۔ ایران مغربی ملکوں کے اس دعوے کی تردید کرتا ہے کہ وہ ایٹمی اسلحہ بنانے کی صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے اس کا اصرار ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے پانچ مستقل ارکان نے یورینیم کی افزودگی کا پروگرام ترک کرنے کے لیے ایران کو تیس دن کی مہلت دی ہوئی ہے اور اس کے ساتھ ہی یہ انتباہ بھی دیا گیا ہے کہ اگر ایران نے یورینیم کی افزودگی کا پروگرام ترک نہ کیا تو تنہا ہو جائے گا۔ آئی اے ای اے کے ایک سینئر اہلکار کا کہنا ہے کہ البرادعی اس دورے کے دوران ایران کے حکام سے اعتماد کی بحالی اقدامات پر تبادلۂ خیال کریں گے۔ آئی اے ای اے کے حکام کا کہنا ہے کہ البرادعی کے اس دورے سے ایران کو ایک بار پھر یہ موقع میسر آئے گا کہ وہ ادارے کو وہ اطلاعات فراہم کرے جس سے اس کی ایٹمی سرگرمیوں کی تاریخ کے خلاء پر کیے جا سکیں۔ ایران اس سال جنوری میں چھوٹی سطح پر یورینیم کی افزودگی شروع کر چکا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یہ کام تحقیقی مقاصد کے لیے شروع کیا گیا ہے۔ |
اسی بارے میں امن کا نوبل انعام البرادعی کے نام07 October, 2005 | آس پاس البرداعی، شیرون ملاقات 08 July, 2004 | آس پاس ایران تعاون نہیں کر رہا، البرادعی 06 April, 2004 | آس پاس جوہری ایجنسی معاوضہ ادا کرے: ایران07 March, 2006 | آس پاس ایران کا سفارتی حل: روس، چین21 March, 2006 | آس پاس ایران مغرب سے بات کرے: عنان13 February, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||