BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 11 April, 2006, 01:31 GMT 06:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ایران پر ایٹمی حملہ زیر غور ہے‘
صدر بش
صدر بش نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا امکان مسترد نہیں کیا ہے
صدر بش کی تردید کے جواب میں معروف امریکی صحافی سیمور ہرش نے کہا ہے کہ وہ اپنے اس دعوے پر قائم ہیں کہ واشنگٹن ایران پر حملے میں جوہری ہتھیار استعمال کرنے پر غور کر رہا ہے۔

صدر جارج بش نے امریکی رسالے نیو یارکر میں شائع ہونے والی ان اطلاعات کو ہوائی قیاس آرائی بتایا ہے کہ امریکہ ایرانی ٹھکانوں پر نہ صرف فضائی بمباری بلکہ میدانِ جنگ میں استعمال ہونے والے جوہری بموں سے کام لینے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

صدر بش نے کہا کہ ’میں نے اخبار میں یہ مضمون پڑھا ہے اس میں جو کچھ لکھا گیا ہے وہ ہوائی اور قیاس آرائی سے زیادہ کچھ نہیں ہے اور آپ جانتے ہیں ایسی باتیں یہاں دارالحکومت میں اکثر ہوتی رہتی ہیں‘۔

رسالے نیو یارکر میں یہ بات کہنہ مشق صحافی سیمور ہرش نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھی تھی۔

سیمور ہرش نے کہا ہے کہ وہ اپنے اس دعوے پر قائم ہیں کہ واشنگٹن ایران پر حملے میں جوہری ہتھیار استعمال کرنے پر غور کر رہا ہے۔

سیمور ہرش نے کہا کہ یہ قیاس آرائی نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وائٹ ہاؤس اس حکمت عملی پر اصرار کررہا ہے جب کہ فوج اس سے بہت ناخوش ہے۔

انہوں نے اس مضمون میں لکھا ہے کہ یہ بات ایران کے زیر زمین جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے سلسلے میں زیر غور آئی تھی کہ جوہری بم بھی استعمال کیے جائیں۔

تاہم سیمور کا کہنا ہے کہ فوج میں کوئی نہیں چاہتا کہ اگر ایران پر فضائی حملہ کرنا ہی ہو تو بھی جوہری ہتھیار استعمال کی جائیں۔

وائٹ ہاؤس نے ان اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئےانہیں’ناقص‘ قرار دیا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ امریکہ ایران پر جوہری حملے کا منصوبہ بنا رہا ہے‘۔

بش انتظامیہ کے ناقدین نے ان اطلاعات پر احتجاج کیا تھا اور ڈیموکریٹ سینیٹر جان کیری کا کہنا ہے کہ’یہ امریکی انتظامیہ کی کاؤ بوائے ڈپلومیسی ہے‘۔

وائٹ ہاؤس کے قونصلر ڈین بارٹلٹ کا کہنا تھا کہ’جو لوگ معمول کی دفاعی اور انٹیلیجنس منصوبہ بندی کی بنیاد پر اس قسم کے حتمی اندازے لگا رہے ہیں ان کی معلومات بالکل ناقص ہیں‘۔

اسی بارے میں
ایران کو تیس دن کی مہلت
30 March, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد