ایٹمی حملے کی امریکی تردید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وائٹ ہاؤس نے ان اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئےانہیں’ناقص‘ قرار دیا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ امریکہ ایران پر جوہری حملے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ہ بش انتظامیہ ایران میں فوجی کارروائی کو آخری حربہ قرار دیتی آئی ہے تاہم ایران پر امریکہ کے ممکنہ جوہری حملے کا دعوٰی امریکی جریدے’نیویارکر‘ کے ایک تحقیقاتی صحافی سیمور ہرش کے ایک مضمون میں کیا گیا ہے۔ بش انتظامیہ کے ناقدین نے ان اطلاعات پر احتجاج کیا تھا اور ڈیموکریٹ سینیٹر جان کیری کا کہنا ہے کہ’یہ امریکی انتظامیہ کی کاؤ بوائے ڈپلومیسی ہے‘۔ وائٹ ہاؤس کے قونصلر ڈین بارٹلٹ کا کہنا تھا کہ’جو لوگ معمول کی دفاعی اور انٹیلیجنس منصوبہ بندی کی بنیاد پر اس قسم کے حتمی اندازے لگا رہے ہیں ان کی معلومات بالکل ناقص ہیں‘۔ برطانوی وزیرِخارجہ جیک سٹرا نے بھی ایران پر امریکی ایٹمی حملے کو قطعاً خارج از امکان قرار دیا ہے۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں شکوک ہیں لیکن یہ کسی فوجی کارروائی کا جواز نہیں ہے۔ ایران پر امریکی جوہری حملے سے متعلق اپنے مضمون میں سیمور ہرش نے تین دعوے کیئے ہیں۔ مضمون میں کہا گیا ہے کہ جہاں ایران میں امریکہ کی فوجی سرگرمیوں میں اضافہ ہو گیا ہے وہیں ایران پر امریکہ کی جانب سے ممکنہ فضائی حملے کی تیاریوں میں تیزی آ گئی ہے۔ تیسرے دعوے کے مطابق ایک ممکنہ اقدام جس پر اب بھی بات چیت ہو رہی ہے، وہ ایران کی محفوظ جوہری تنصیبات کی تباہی کے لیئے جوہری ہتھیاروں کا استعمال ہے۔ مضمون میں کہا گیا ہے کہ بش انتظامیہ نے ایران کی زیرِ زمین جوہری تنضیبات میں سے کم از کم ایک کی تباہی کے لیئے جوہری بنکر شکن اسلحہ استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ سیمور ہرش نے ایک اعلٰی سرکاری اہلکار کے حوالے سے کہا ہے کہ امریکی صدر نے ایران کے صدر محمود احمدی نژاد کو’ہٹلر‘ سے بھی تشبیہ دی۔ یاد رہے کہ امریکی سنٹرل کمانڈ کے سابق سربراہ ریٹائرڈ جنرل انتھونی زنی نے اتوار کو کہا تھا کہ ایران ہر حملے کا منصوبہ خطرناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ایران سے متعلق کسی بھی فوجی منصوبے پر عمل آسان نہیں۔ ہمیں یہ نہیں تصور کر لینا چاہیئے کہ یہ بس ایک حملہ ہو گا اور پھر سب ختم۔ ایرانی یقیناًً جواب دیں گے اور ایران کے قرب و جوار میں کئی ممکنہ ہدف بھی موجود ہیں‘۔ | اسی بارے میں ایٹمی حملے کا امکان نہیں: سٹرا10 April, 2006 | آس پاس ایران پر میٹنگ نہیں: برطانیہ02 April, 2006 | آس پاس ایران کو تیس دن کی مہلت 30 March, 2006 | آس پاس ایران کے خلاف بیان کی منظوری29 March, 2006 | آس پاس ایرانی پیشکش ایک بہانہ: امریکہ18 March, 2006 | آس پاس ایران، امریکہ بات چیت کے لیے تیار16 March, 2006 | آس پاس ایران سےشدید تشویش ہے: امریکہ 11 March, 2006 | آس پاس ’ایران سلامتی کونسل کا امتحان‘ 10 March, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||