BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 10 April, 2006, 05:24 GMT 10:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایٹمی حملے کی امریکی تردید
امریکہ نے ایران میں فوجی کارروائی کا خیال رد نہیں کیا ہے
امریکہ نے ایران میں فوجی کارروائی کا خیال رد نہیں کیا ہے
وائٹ ہاؤس نے ان اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئےانہیں’ناقص‘ قرار دیا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ امریکہ ایران پر جوہری حملے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ہ

بش انتظامیہ ایران میں فوجی کارروائی کو آخری حربہ قرار دیتی آئی ہے تاہم ایران پر امریکہ کے ممکنہ جوہری حملے کا دعوٰی امریکی جریدے’نیویارکر‘ کے ایک تحقیقاتی صحافی سیمور ہرش کے ایک مضمون میں کیا گیا ہے۔

بش انتظامیہ کے ناقدین نے ان اطلاعات پر احتجاج کیا تھا اور ڈیموکریٹ سینیٹر جان کیری کا کہنا ہے کہ’یہ امریکی انتظامیہ کی کاؤ بوائے ڈپلومیسی ہے‘۔

وائٹ ہاؤس کے قونصلر ڈین بارٹلٹ کا کہنا تھا کہ’جو لوگ معمول کی دفاعی اور انٹیلیجنس منصوبہ بندی کی بنیاد پر اس قسم کے حتمی اندازے لگا رہے ہیں ان کی معلومات بالکل ناقص ہیں‘۔

برطانوی وزیرِخارجہ جیک سٹرا نے بھی ایران پر امریکی ایٹمی حملے کو قطعاً خارج از امکان قرار دیا ہے۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں شکوک ہیں لیکن یہ کسی فوجی کارروائی کا جواز نہیں ہے۔

 ایران سے متعلق کسی بھی فوجی منصوبے پر عمل آسان نہیں۔ ہمیں یہ نہیں تصور کر لینا چاہیئے کہ یہ بس ایک حملہ ہو گا اور پھر سب ختم۔ ایرانی یقیناًً جواب دیں گے اور ان کے پاس علاقے میں کئی ممکنہ ہدف موجود ہیں۔
ریٹائرڈ جنرل انتھونی زنی

ایران پر امریکی جوہری حملے سے متعلق اپنے مضمون میں سیمور ہرش نے تین دعوے کیئے ہیں۔ مضمون میں کہا گیا ہے کہ جہاں ایران میں امریکہ کی فوجی سرگرمیوں میں اضافہ ہو گیا ہے وہیں ایران پر امریکہ کی جانب سے ممکنہ فضائی حملے کی تیاریوں میں تیزی آ گئی ہے۔

تیسرے دعوے کے مطابق ایک ممکنہ اقدام جس پر اب بھی بات چیت ہو رہی ہے، وہ ایران کی محفوظ جوہری تنصیبات کی تباہی کے لیئے جوہری ہتھیاروں کا استعمال ہے۔

مضمون میں کہا گیا ہے کہ بش انتظامیہ نے ایران کی زیرِ زمین جوہری تنضیبات میں سے کم از کم ایک کی تباہی کے لیئے جوہری بنکر شکن اسلحہ استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔

 جو لوگ معمول کی دفاعی اور انٹیلیجنس منصوبہ بندی کی بنیاد پر اس قسم کے حتمی اندازے لگا رہے ہیں ان کی معلومات بالکل ناقص ہیں۔
ڈین بارٹلٹ

سیمور ہرش نے ایک اعلٰی سرکاری اہلکار کے حوالے سے کہا ہے کہ امریکی صدر نے ایران کے صدر محمود احمدی نژاد کو’ہٹلر‘ سے بھی تشبیہ دی۔

یاد رہے کہ امریکی سنٹرل کمانڈ کے سابق سربراہ ریٹائرڈ جنرل انتھونی زنی نے اتوار کو کہا تھا کہ ایران ہر حملے کا منصوبہ خطرناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ایران سے متعلق کسی بھی فوجی منصوبے پر عمل آسان نہیں۔ ہمیں یہ نہیں تصور کر لینا چاہیئے کہ یہ بس ایک حملہ ہو گا اور پھر سب ختم۔ ایرانی یقیناًً جواب دیں گے اور ایران کے قرب و جوار میں کئی ممکنہ ہدف بھی موجود ہیں‘۔

اسی بارے میں
ایران کو تیس دن کی مہلت
30 March, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد