’پابندیاں لگانے پر اتفاق نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک اور جرمنی کے سفارت کاروں کے درمیان ماسکو میں ہونے والے ایک اجلاس میں ایران کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے نہیں ہو سکا ہے۔ امریکہ کے انڈر سیکریٹری آف اسٹیٹ نکولس برنز نے اس اجلاس کے بعد کہا کہ تمام شرکاء اس بات پر متفق ہیں کہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے فوری طور پر کچھ کیا جانا چاہیے۔ تاہم انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ان چھ ملکوں کے درمیان اس ضمن میں اٹھائے جانے والے اقدامات کی نوعیت کے حوالے سے کوئی اتفاق رائے نہیں ہو سکا ہے۔ مصر کے دورے کے دوران فرانس کے صدر ژاک شیراک نے کہا کہ جوہری ہتھیاروں سے لیس ایران کسی طرح بھی قابل قبول نہیں ہے۔ گزشتہ ہفتے ایران نے یورینیم کو صنعتی استعمال کی حد تک افزودہ کرنے کی صلاحیت حاصل کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ تاہم وہ یورینیم کو اس حد تک افزودہ کرنے کی صلاحیت ابھی حاصل نہیں کر سکا ہے کہ اسے جوہری ہتھیاروں میں استعمال کیا جا سکے۔ ایران اس بات پر اصرار کرتا رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ واشنگٹن اور کئی مغربی ممالک کو شبہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ امریکی صدر جارج بش نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف طاقت کے استعمال سمیت تمام ممکنہ اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔ ایران نےکسی حملے کی صورت میں بھرپور جواب دینے کی دھمکی بھی دی ہے۔ | اسی بارے میں ایران پر حملے کا راستہ کھلا ہے: بش19 April, 2006 | آس پاس ’اسرائیل سب کے لیے خطرہ‘14 April, 2006 | آس پاس ایران کونتائج بھگتنے ہوں گے:امریکہ13 April, 2006 | آس پاس ایٹمی پروگرام نہیں رکےگا: ایران13 April, 2006 | آس پاس ایٹمی حملے کی امریکی تردید10 April, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||