ایران پر حملے کا راستہ کھلا ہے: بش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر بش نے کہا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے باز رکھنے کے لیئے طاقت کے استعمال سمیت تمام راستے کھلے ہیں۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ امریکہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق بحران کا سفارتی حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے یہ بیان ایک ایسے وقت دیا ہے جب ایرانی صدر نے ملک پر حملے کی صورت میں حملہ آور کا ہاتھ توڑ دینے کی دھمکی دی ہے۔ ایران کا اصرار ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیئے ہے جبکہ امریکہ اس دعوے کو ہمیشہ سے مسترد کرتا آیا ہے۔ وائٹ ہاؤس میں اخبار نویسوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے صدر بش نے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق تمام تر راستے کھلے ہیں۔ صدر بش نے ان ملکوں کے ساتھ مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا جو ایران کے جوہری پروگرام کے خطرے کو سمجھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکہ ایران کے جوہری پروگرام کے سلسلے میں برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔ دوسری طرف ایران کے متنازع جوہری پروگرام پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اور جرمنی کا روس کے دارالحکومت ماسکو میں ہونے والا اجلاس بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گیا ہے۔ اجلاس کے بعد امریکی نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ تمام ارکان کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اس معاملے پر فوری ردِ عمل کی ضرورت ہے، لیکن یہ کیا اور کیسے ہو اس پر مزید گفت و شنید ہو گی۔ اس سے پہلے ایک آرمی ڈے پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے کہا کہ وہ خطے میں امن اور سلامتی کے خواہاں ہیں، تاہم فوج کو کسی بھی قسم کی جارحیت سے نپٹنے کے لیئے جدید ٹیکنالوجی سے مسلح ہونا چاہیے۔ ’ایران نے ایک طافتور فوج تیار کر رکھی ہے جو ملک کی سیاسی سرحدوں اور ایرانی قوم کی حمیت کا بھرپور دفاع کر سکتی ہے اور جارحیت کرنے والے کا ہاتھ توڑ کر اسے شرمناک شکست دے سکتی ہے۔ | اسی بارے میں یورینیم آفزودہ کر لی: ایرانی صدر12 April, 2006 | آس پاس سلامتی کونسل کے اراکین کی تشویش12 April, 2006 | آس پاس ’اسرائیل سب کے لیے خطرہ‘14 April, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||