سلامتی کونسل کے اراکین کی تشویش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کے اس اعلان پر کہ اس نے کامیابی کے ساتھ یورنیم افزودہ کر لیا ہے، دنیا کے مختلف رہنماؤں نے ایک بار پھر تشویش کا اظہار کیا ہے اور امریکی وزیرِ خارجہ کونڈولیزا رائس نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف سخت اقدامات کرے۔ امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ سلامتی کونسل اپنے آئندہ اجلاس میں اس حوالے سے سخت اقدامات کرے تاکہ بین الاقوامی برادری کا اعتبار قائم ہو سکے۔ ادھر چین نے بھی ایران سے کہا ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کے جوہری ادارے کے ساتھ ساتھ مزید تعاون کرے۔ روس، فرانس اور برطانیہ نے بھی چین پر زور دیا ہے کہ وہ یورینیم کی افزودگی کو ترک کر دے۔ گزشہ ماہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران کو اٹھائیس اپریل تک کی مہلت دیتے ہوئے اس سے کہا تھا کہ یورنیم کی افزودگی معطل کرے اور جوہری توانائی کے عالمی ادارے کی درخواست کی تعمیل کرتے ہوئے زیادہ تعاون اور خود کو مزید شفاف بنائے۔ مگر ایران میں صدر احمدی نژاد نے کہا ہے کہ ایران متحد ہو جائے اور بیرونی دباؤ کا مقابلہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اب دیگر اسلامی ممالک کے لیئے ایک نمونہ بن گیا ہے۔ بین الاقوامی جوہری ادارے کے سربراہ محمد البرادعی بدھ کو ایران روانہ ہو رہے ہیں جہاں وہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے بات چیت کریں گے۔ اس سے پیشتر امریکہ نے ایران کی جوہری پیش رفت کی مذمت کی تھی اور اپنی بات دہرائی تھی کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار نہیں بنانے دینا چاہیئے۔ صدر محمود احمدی نژاد کے اس اعلان کے بعد کہ ایران نے کامیابی کے ساتھ یورینیم کوافزودہ کر لیا ہے امریکہ نے کہا تھا کہ ’ایران غلط سمت میں جارہا ہے۔‘ دریں اثناء روس بھی ایران کے ایٹمی پروگرام کے خلاف امریکہ کے ساتھ ہم آواز ہوگیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ایران یورینیم کی افزودگی ترک کردے۔ ماسکو سے جاری ہونے والے ایک بیان میں روس کا بھی یہی کہنا ہے کہ ایران نے غلط سمت میں قدم بڑھایا ہے۔ تاہم روسی وزیر خارجہ سرگیئی لاورو کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں ایران کا مسئلہ طاقت کے استعمال سے حل نہیں کیا جانا چاہیئے۔ محمود احمدی نژاد نے سرکاری ٹیلی ویژن پر تقریر کے دوران دعویٰ کیا کہ ایران نے پہلی دفعہ کم درجے کی یورینیم کی افزودگی مکمل کر لی ہے اور وہ اب جوہری صلاحیت رکھنے والے ملکوں کی صف میں شامل ہو چکا ہے۔ ایک امریکی ترجمان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی جانب سے ان تنبیہات کے باوجود کہ ایران اپنی جوہری سرگرمیاں معطل کردے، اس جوہری پیش رفت نے ایران اور اس کے عوام کو دنیا سے الگ تھلگ کردی ہے۔
اقوام متحدہ کے جوہری ادارے آئی اے ای اے کے سربراہ بدھ کو ایران کا دورہ کررہے ہیں تاکہ اس بحران پر قابو پانے کی کوشش کی جائے۔ ایرانی صدر نے جوہری صلاحیت حاصل کرنے کا اعلان فروری میں یورینیم کی افزودگی بحال کرنے کے ٹھیک دو ماہ بعد کیا ہے۔ اپنی تقریر کے دوران انہوں نے کہا: ’میں سرکاری طور پر اعلان کرتا ہوں کہ ایران ان ممالک میں شامل ہوگیا ہے جو جوہری ٹیکنالوجی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہم صنعتی سطح پر یورینیم کی افزودگی کرنے تک اپنا پروگرام جاری رکھیں گے۔‘ یہ اعلان سن کر لوگوں نے ’اللہ اکبر‘ کے نعرے لگائے۔ ایرانی صدر نے ملک کے سائنسدانوں پر زور دیا کہ وہ صنعتی سطح پر یورینیم کی افزودگی تک اپنا کام جاری رکھیں۔ ساتھ ہی انہوں نے مغربی ممالک پر زور دیا کہ وہ ایران کے ایٹمی ٹیکنالوجی حاصل کرنے کے حق کو تسلیم کریں۔ احمدی نژاد نے اتوار کو اپنے اعلان میں کہا کہ نتانز کے جوہری پلانٹ میں نیوکلیئر فیول سائیکل کامیابی کے ساتھ مکمل کرلیا گیاہے۔ امریکہ اور دوسرے کئی ممالک ایران پر جوہری پروگرام ختم کرنے کے دباؤ ڈال رہے ہیں کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ ایران کا مقصد جوہری بم بنانا ہے۔ دوسری جانب ایران کا موقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیئے ہے اور وہ جوہری ہتھیار بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ گزشتہ ماہ اقوام متحدہ نے ایران کو اپنا کام روکنے کے لیئے 30 دن کی مہلت دی تھی اور کہا تھا ایسا نہ کرنے پر اسے پابندیوں یا ممکنہ کارروائی کا سامنا ہوسکتا ہے۔ امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان شان میک کورمیک نے کہا: ’ہمیں امید تھی کہ ایران بغاوت کے بجائے سفارتکاری کا راستہ چنے گا۔‘ آئی اے ای اے کے سربراہ محمود البرادعی ایران پہنچ کر جوہری پروگرام پر بات چیت کریں گے اور پھر اس ماہ کے آخر تک سکیورٹی کونسل کو نتائج سے آگاہ کریں گے۔ امکان ہے کہ کونسل کے دو ارکان روس اور چین امریکہ کی جانب سے پابندیاں عائد کرنے کے مطالبات کی مخالفت کریں گے۔ ایران میں جو یورینیم کی افزودگی کا عمل کیا جارہا ہے وہ صرف ’کم درجے کی افزودگی‘ ہے جبکہ جوہری ہتھیاروں میں استعمال ہونے والا نیوکلیئر فیول بنانے کے لیئے اسے انتہائی ’اعلٰی درجے کی افزودگی‘ کی ضرورت ہوتی ہے جس میں ہزاروں سینٹری فیوجز درکار ہوں گے۔ فی الوقت ایران صرف 164 سینٹری فیوجز استعمال کررہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی ایران کو جوہری بم بنانے میں کئی سال لگیں گے۔ | اسی بارے میں ایران سےشدید تشویش ہے: امریکہ 11 March, 2006 | آس پاس ایران: سلامتی کونسل کے حوالے08 March, 2006 | آس پاس ایران، سلامتی کونسل کی’میٹنگ‘15 March, 2006 | آس پاس ایران: انتہائی تیز رفتار تارپیڈو03 April, 2006 | آس پاس مذاکرات: برادعی ایران جائیں گے07 April, 2006 | آس پاس ایٹمی حملے کی امریکی تردید10 April, 2006 | آس پاس ’ایران پر ایٹمی حملہ زیر غور ہے‘11 April, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||