ایران کونتائج بھگتنے ہوں گے:امریکہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی تنبیہ کو نہ ماننے پر ایران کو نتائج بھگتنے پڑیں گے۔ ایران کی طرف سے یورینیم کی آفزودگی کے دعوؤں کے بعد امریکہ کی وزیر خارجہ نے کہا کہ اس کے کچھ نتائج بھی ہوں گے جو ایران کو بھگتنے پڑیں گے۔ واشنگٹن میں تقریر کرتے ہوئے کونڈو لیزا رائس نے کہا کہ سلامتی کونسل اقوام متحدہ کے آئین کی شق سات کے تحت ایران کے خلاف ایکشن لینے کی مجاز ہے جس کے تحت اقوام عالم کی رائے کو منوانے کے لیے اقدامات لیے جا سکتے ہیں۔ ادھر ایران کے صدر احمدی نژاد نے ایک بار پھر ملک کے جوہری پروگرام کو روکنے سے انکار کر دیا ہے۔ بین الاقوامی جوہری ادارے کے سربراہ محمد البرادعی کی تہران آمد کے موقع پر ایران کے صدر نے کہا کہ ایران کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے اور وہ اس کو جاری رکھیں گے۔ محمد البرادعی کے ایران پہنچنے کے ایک روز پہلے ایران کے صدر نے اعلان کیا تھا کہ ایران یورینیم کو افزودہ کر کے ایٹمی صلاحیت رکھنے والے ملکوں کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے۔ ایران پہنچنے پر بین الاقوامی جوہری ادارے کے سربراہ نے کہا تھا کہ وہ ایران کو قائل کرنے کی کوشش کریں گے کہ وہ حل طلب معاملات کے حل تک یورینیم کی افزودگی کو بند کر دے لیکن بظاہر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران کو اٹھائیس اپریل تک کی مہلت دے رکھی ہے کہ وہ یورینیم کی افزودگی معطل کرے اور جوہری توانائی کے عالمی ادارے کی درخواست کی تعمیل کرتے ہوئے زیادہ تعاون اور خود کو مزید شفاف بنائے۔ | اسی بارے میں ایران سےشدید تشویش ہے: امریکہ 11 March, 2006 | آس پاس ایران: سلامتی کونسل کے حوالے08 March, 2006 | آس پاس ایران، سلامتی کونسل کی’میٹنگ‘15 March, 2006 | آس پاس ایران: انتہائی تیز رفتار تارپیڈو03 April, 2006 | آس پاس مذاکرات: برادعی ایران جائیں گے07 April, 2006 | آس پاس ایٹمی حملے کی امریکی تردید10 April, 2006 | آس پاس ’ایران پر ایٹمی حملہ زیر غور ہے‘11 April, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||