روس ایران کی مدد نہ کرے: امریکہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے روس پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کواس کے پہلے غیر فوجی (سویلین) پاور سٹیشن کے تعمیر کے سلسلے میں مدد فراہم نہ کرے۔ ماسکو میں ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے بات چیت کے بعد امریکی سفیر نیکولس برنس کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملک کو ایران کے جوہری منصوبوں پر مدد دینے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے چاہے اس کا مقصد سویلین ہی کیوں نہ ہو۔ ایران کے جوہری پروگرام پر امریکہ اور روس کے درمیان اتفاق رائے کی کوشیشیں جاری ہیں تاہم اس کے باوجود دونوں ممالک میں ایران کے جوہری معاملے پر تناؤ پایا جاتا ہے۔ تہران نے اقوام متحدہ کی جوہری پروگرام کو روکنےکی بات ماننے سے انکار کر دیا ہے ۔اس نےگزشتہ ہفتے یورنیم کی کامیاب افژودگی کا اعلان بھی کیا تھا۔ ایران کا یہ بھی اصرار ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن ہے اور اس کا مقصد محض توانائی کا حصول ہے جبکہ امریکہ اور دوسرے مغربی ممالک اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ایران خفیہ طور پر جوہری ہتھیار بنا رہا ہے۔ بی بی سی کے تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ روس کی ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے دلچسپی کئی سال سے ماسکو اور واشنگٹن کے درمیان کھینچاؤ کا باعث ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ روس نے ایران کو جوہری معاملات کے حوالے سے معلومات فراہم کی ہیں۔ ایران کے جنوبی حصے میں ملک کے پہلے ایٹمی پاور سٹیشن کا حوالے دیتے ہوئے امریکی انڈر سکیریٹری نکولس برنس کا کہنا ہے کہ’ہمارا خیال ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر اس کا ساتھ دینے والے ممالک کو اس عمل سے باز آجانا چاہیے چاہے اس کا تعلق سویلین جوہری معاملات سے ہی کیوں نہ ہو‘۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری معاملات پر روس کی پشت پناہی کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں ہے اور ماسکو اس سلسلے میں امریکی مداخلت برداشت نہیں کرے گا۔ ایران کو جوہری معاملات پر مدد فراہم کرنے کے بارے میں روس کا کہنا ہے کہ حساس ٹیکنالوجی کی منتقلی کے سلسلے میں اس نے ہمیشہ احتیاط اور بین الاقوامی پابندیوں کو ملحوظ خاطر رکھا ہے۔ نامہ نگار کا یہ بھی کہنا ہے کہ روس ہر اس اقدام کی مخالفت کرے گا جس سے ایران کے ساتھ اس کے تعلقات میں کوئی رخنہ آئے۔ ایران کے جوہری معاملے کے حوالے سے امریکہ چاہتا ہے کہ اقوام متحدہ ایران کے خلاف مزید سخت اقدامات اٹھائے تاہم ماسکو نےابھی تک ایران کے جوہری پروگرام کی بندش کے حوالے سے مغربی ممالک کے دباؤ کی کوششوں میں کوئی سرگرمی نہیں دکھائی ہے۔ | اسی بارے میں ایران پر میٹنگ نہیں: برطانیہ02 April, 2006 | آس پاس ’ایران پر ایٹمی حملہ زیر غور ہے‘11 April, 2006 | آس پاس ایران افزودگی ترک کردے: روس12 April, 2006 | آس پاس ایران کونتائج بھگتنے ہوں گے:امریکہ13 April, 2006 | آس پاس ’ایران سے براہِ راست بات کریں‘ 17 April, 2006 | آس پاس ایران پر حملے کا راستہ کھلا ہے: بش19 April, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||