BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 12 April, 2006, 06:03 GMT 11:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایران افزودگی ترک کردے: روس
ایران
یہ اعلان سن کر لوگوں نے ’اللہ اکبر‘ کے نعرے لگائے
امریکہ نے ایران کی جوہری پیش رفت کی مذمت کی ہے اور اپنی بات دہرائی ہے کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار نہیں بنانے دینا چاہیئے۔ صدر محمود احمدی نژاد کے اس اعلان کے بعد کہ ایران نے کامیابی کے ساتھ یورینیم کوافزودہ کر لیا ہے امریکہ نے کہا کہ ’ایران غلط سمت میں جارہا ہے۔‘

روس بھی ایران کے ایٹمی پروگرام کے خلاف امریکہ کے ساتھ ہم آواز ہوگیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ایران یورینیم کی افزودگی ترک کردے۔ ماسکو سے جاری ہونے والے ایک بیان میں روس کا بھی یہی کہنا ہے کہ ایران نے غلط سمت میں قدم بڑھایا ہے۔ تاہم روسی وزیر خارجہ سرگیئی لاورو کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں ایران کا مسئلہ طاقت کے استعمال سے حل نہیں کیا جانا چاہیئے۔

محمود احمدی نژاد نے سرکاری ٹیلی ویژن پر تقریر کے دوران دعویٰ کیا کہ ایران نے پہلی دفعہ کم درجے کی یورینیم کی افزودگی مکمل کر لی ہے اور وہ اب جوہری صلاحیت رکھنے والے ملکوں کی صف میں شامل ہو چکا ہے۔

ایک امریکی ترجمان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی جانب سے ان تنبیہات کے باوجود کہ ایران اپنی جوہری سرگرمیاں معطل کردے، اس جوہری پیش رفت نے ایران اور اس کے عوام کو دنیا سے الگ تھلگ کردی ہے۔

بم بنانے میں کئی سال لگیں گے
ایران میں جو یورینیم افزودگی کا عمل کیا جارہا ہے وہ صرف ’کم درجے کی افزودگی‘ ہے جبکہ جوہری ہتھیاروں میں استعمال ہونے والا نیوکلیئر فیول بنانے کے لیئے اسے انتہائی ’بڑے درجے کی افزودگی‘ کی ضرورت ہوتی ہے جس میں ہزاروں سینٹری فیوجز درکار ہوں گے۔ فی الوقت ایران صرف 164 سینٹری فیوجز استعمال کررہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی ایران کو جوہری بم بنانے میں کئی سال لگیں گے۔

اقوام متحدہ کے جوہری ادارے آئی اے ای اے کے سربراہ بدھ کو ایران کا دورہ کررہے ہیں تاکہ اس بحران پر قابو پانے کی کوشش کی جائے۔ ایرانی صدر نے جوہری صلاحیت حاصل کرنے کا اعلان فروری میں یورینیم کی افزودگی بحال کرنے کے ٹھیک دو ماہ بعد کیا ہے۔

اپنی تقریر کے دوران انہوں نے کہا: ’میں سرکاری طور پر اعلان کرتا ہوں کہ ایران ان ممالک میں شامل ہوگیا ہے جو جوہری ٹیکنالوجی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہم صنعتی سطح پر یورینیم کی افزودگی کرنے تک اپنا پروگرام جاری رکھیں گے۔‘

یہ اعلان سن کر لوگوں نے ’اللہ اکبر‘ کے نعرے لگائے۔

ایرانی صدر نے ملک کے سائنسدانوں پر زور دیا کہ وہ صنعتی سطح پر یورینیم کی افزودگی تک اپنا کام جاری رکھیں۔ ساتھ ہی انہوں نے مغربی ممالک پر زور دیا کہ وہ ایران کے ایٹمی ٹیکنالوجی حاصل کرنے کے حق کو تسلیم کریں۔ احمدی نژاد نے اتوار کو اپنے اعلان میں کہا کہ نتانز کے جوہری پلانٹ میں نیوکلیئر فیول سائیکل کامیابی کے ساتھ مکمل کرلیا گیاہے۔

امریکہ اور دوسرے کئی ممالک ایران پر جوہری پروگرام ختم کرنے کے دباؤ ڈال رہے ہیں کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ ایران کا مقصد جوہری بم بنانا ہے۔ دوسری جانب ایران کا موقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیئے ہے اور وہ جوہری ہتھیار بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔

گزشتہ ماہ اقوام متحدہ نے ایران کو اپنا کام روکنے کے لیئے 30 دن کی مہلت دی تھی اور کہا تھا ایسا نہ کرنے پر اسے پابندیوں یا ممکنہ کارروائی کا سامنا ہوسکتا ہے۔

امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان شان میک کورمیک نے کہا: ’ہمیں امید تھی کہ ایران بغاوت کے بجائے سفارتکاری کا راستہ چنے گا۔‘

آئی اے ای اے کے سربراہ محمود البرادعی ایران پہنچ کر جوہری پروگرام پر بات چیت کریں گے اور پھر اس ماہ کے آخر تک سکیورٹی کونسل کو نتائج سے آگاہ کریں گے۔ امکان ہے کہ کونسل کے دو ارکان روس اور چین امریکہ کی جانب سے پابندیاں عائد کرنے کے مطالبات کی مخالفت کریں گے۔

ایران میں جو یورینیم کی افزودگی کا عمل کیا جارہا ہے وہ صرف ’کم درجے کی افزودگی‘ ہے جبکہ جوہری ہتھیاروں میں استعمال ہونے والا نیوکلیئر فیول بنانے کے لیئے اسے انتہائی ’اعلٰی درجے کی افزودگی‘ کی ضرورت ہوتی ہے جس میں ہزاروں سینٹری فیوجز درکار ہوں گے۔ فی الوقت ایران صرف 164 سینٹری فیوجز استعمال کررہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی ایران کو جوہری بم بنانے میں کئی سال لگیں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد