جوہری تنازع، ایران کا ردعمل جارحانہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران نے اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے ادارئے’ آئی اے ای اے‘ کی رپورٹ پر جارحانہ ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے عالمی دباؤ کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ آئی اے ای اے نے جمعہ کو سلامتی کونسل میں ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران نے یورینیم کی افزودگی بند کرنے کے سلامتی کونسل کے مطالبے کو تسلیم نہیں کیا ہے۔ اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر جواد ظریف نے کہا ہے کہ ایران عالمی دباؤ میں نہیں آئے گا تاہم انہوں نے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ ایران اس معاملہ کا کوئی مثبت حل نکالنے کا خواہش مند ہے۔ گزشتہ ماہ سلامتی کونسل نے ایران کو یورینیم کے افزودگی کو بند کرنے کی جو مہلت دی تھی وہ جمعہ کو ختم ہو گئی۔ مغربی ممالک کو تشویش ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ جبکہ ایران کا اسرار ہے کہ وہ جوہری توانائی پرامن مقاصد کے لیئے حاصل کرنا چاہتا ہے۔ امریکی صدر جارج بش نے آئی اے ای اے کی رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ایران کے جارحانہ عزائم کا پتا چلتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اپنے اتحادیوں سے ایران کے جوہری عزائم کے بارے میں بات کرئے گا۔ آئی اے ای اے کی رپورٹ آنے کے بعد سلامتی کونسل ایران کے خلاف قرار داد منظور کر سکتی ہے۔ تاہم نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ برطانیہ اور فرانس ایران کے خلاف سخت اقدامات اٹھانے کے حامی ہیں جبکہ سلامتی کونسل کے دو مستقل رکن روس اور چین اس سلسلے میں نرم رویہ اپنانے کی بات کر رہے ہیں۔ اس سے قبل ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے واشگاف الفاظ میں کہا تھا کہ ایران کو کسی رپورٹ کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ | اسی بارے میں ’ٹیکنالوجی دوسروں کے لیئے بھی‘25 April, 2006 | آس پاس البرداعی کی رپورٹ آج متوقع27 April, 2006 | آس پاس ’ایران کو کسی کی پرواہ نہیں‘28 April, 2006 | آس پاس ’یو این سے تعاون ختم کر سکتے ہیں‘25 April, 2006 | آس پاس ایران ناکام رہا ہے: آئی اے ای اے28 April, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||