’ٹیکنالوجی دوسروں کے لیئے بھی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کے سب سے بڑے رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ ان کا ملک دیگر ممالک کو اپنی جوہری ٹیکنالوجی کا شراکت دار بنانے پر تیار ہے۔ انہوں نے یہ پیشکش ایران کے دورے پر آئے ہوئے سوڈان کے صدر عمر البشیر کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران کہی۔ امریکی وزیرِ خارجہ کونڈولیزا رائس نے ایرانی رہنما کے اس بیان کی مذمت کی ہے۔ اس سے قبل ایران کے جوہری معاملات کے سب سے بڑے مذاکرات کار نے دھمکی دی تھی کہ اگرایران کو اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے پابندیوں کا سامنا ہوا تو وہ اقوامِ متحدہ کے ادارے کے ساتھ تعاون معطل کر دے گا۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران کو یورینیم کی افژودگی معطل کرنے کے لیئے اٹھائیس اپریل تک کی مہلت دے رکھی ہے۔ ادھر امریکی سلامتی کونسل میں نمائندہ ممالک کو ایران کے خلاف یکجا کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ اس کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جا سکے جس میں پابندیاں بھی شامل ہیں۔ تاہم کچھ ممالک جن میں روس اور چین شامل ہیں اس اقدام کے حق میں نہیں ہیں۔ عمر البشیر سے اپنی ملاقات میں آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ ایران کے سائنس دانوں کی جوہری صلاحیت ملک میں سائنسی تحریک و ترقی کے لیئے کیئے جانے والے کئی اقدامات میں سے ایک ہے۔ انہوں نے کہا: ’اسلامی جمہوریۂ ایران اپنا تجربہ اور ٹیکنالوجی اور اپنے سائنس دانوں کا علم دوسروں کو منتقل کرنے کے لیئے تیار ہے۔‘ عمر البشیر نے جواباً ایران کے یورینیم افژودہ کرنےکی تعریف کی اور کہا یہ اسلامی دنیا کی بہت بڑی فتح ہے۔ گزشتہ ماہ سوڈان کے صدر کا کہنا تھا کہ ان کا ملک عوامی جوہری پروگرام تیار کرنے پر غور کر رہا ہے۔ گزشتہ برس ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے بھی جوہری معاملات میں دیگر ممالک کو شراکت دار بنانے کی بات کہی تھی۔ تاہم بی بی سی کی نامہ نگار فرانسس ہیریسن کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ جوہری ٹیکنالوجی کی منتقلی کی بات انتہائی اعلیٰ سطح سے کی گئی ہے اور اس کا ایک مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ یہ جوہری ٹیکنالوجی سوڈان کو منتقل کی جا سکتی ہے۔ | اسی بارے میں ’یو این سے تعاون ختم کر سکتے ہیں‘25 April, 2006 | آس پاس جوہری پروگرام اٹل ہے: ایران23 April, 2006 | آس پاس ’پابندیاں لگانے پر اتفاق نہیں‘19 April, 2006 | آس پاس ایران کونتائج بھگتنے ہوں گے:امریکہ13 April, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||