BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 05 May, 2006, 15:38 GMT 20:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قیدیوں پر تشدد نہیں کرتے: امریکہ
 گوانتانامو
’امریکہ کا فوجداری قانون تشدد سے روکتا ہے اور تشدد قطعی غلط ہے‘
امریکی حکومت نے اپنے عقوبت خانوں میں موجود قیدیوں سے نامناسب برتاؤ کے الزامات کی تردید کی ہے۔

امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ برائے انسانی حقو ق بیری لوئکران نے جنیوا میں تشدد مخالف کمیٹی کو بتایا کہ امریکی قوانین متشددانہ رویو ں کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔

گیارہ ستمبر سنہ 2001 کے حملوں کے بعد سینئر امریکی عہدیداران پہلی مرتبہ اس کمیٹی کے روبرو اپنے بیانات قلمبند کروا رہے ہیں۔

ِانسا نی حقوق کے عالمی اداروں کی جا نب سے کہا جاتا رہا ہے کہ امریکی حکومت اقوامِ متحدہ کے’تشدد مخالف قوانین‘ کی منحرف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ افغانستان، عراق، گوانتانامو بے اور کیوبا سمیت دنیا بھر میں قائم امریکی قید خانو ں میں غیر ملکی ملزمان کے ساتھ غیر انسانی سلو ک روا رکھا جا رہا ہے۔

بیری لوئکران نے کمیٹی کے سامنے اپنے ابتدائی بیان میں تشدد کے الزامات کو سختی سے مسترد کر تے ہوئے کہا کہ’میری حکو مت کی پوزیشن اس معاملے میں بالکل صاف ہے۔ امریکہ کا فوجداری قانون تشدد سے روکتا ہے اور تشدد قطعی غلط ہے‘۔

مسٹر لوئکران نے کہا کہ امریکہ کے زیرِانتظام عراقی جیل ابوغریب میں امریکی فوجیوں کی پر تشدد کارروائیاں ایک’ناقابلِ معافی‘ اور’ناقابلِ دفاع‘ جرم تھا۔ تاہم دنیا کو اس با ت کا نوٹس بھی لینا چاہیئے کہ اس سلسلے میں ڈھائی سو افراد کا احتساب کیا گیا۔

میری حکو مت کی پوزیشن اس معاملے میں بالکل صاف ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار راب واٹسن کا کہنا ہے کہ تشدد مخالف کمیٹی کی جنیوا میں ہو نے والی اس سما عت میں امریکہ نے تیس افراد پر مشتمل وفد بھیجا ہے جو تمام کے تما م نہا یت اہم عہدوں پر فائز ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ خود پر لگائے جانے والے تشدد کے الزاما ت کو بےحد سنجیدگی سے لے رہا ہے۔

امریکہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کنونشن کے تحت اس بات کا پابند ہے کہ وہ کمیٹی کی سفارشات پر عمل کرے۔ تاہم اس پر عمل درآمد کرانے کے لیئے کوئی نظام موجو د نہیں۔

اطلاعات ہیں کہ جنیوا میں جاری اس سما عت کے دوران امریکی عہدیداران سے کہا جائے گا کہ وہ دنیا بھر میں خفیہ امریکی عقوبت خانوں کی تفصیلات کے علاوہ ان میں مقید ملزمان کی شہریت اور ان پر لگائے گئے الزامات کی فہرست پیش کریں۔

دس قانو نی ماہرین پیر تک امریکی وفد کے ارکان پر جرح کریں گے جس کے بعد ایک تفصیلی رپورٹ مرتب کی جا ئے گی۔ کمیٹی کے پاس امریکی وفد کے لیئے انسٹھ سوالات ہیں جن میں سے ترپّن صرف’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ سے متعلق ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد