قیدیوں پر تشدد نہیں کرتے: امریکہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی حکومت نے اپنے عقوبت خانوں میں موجود قیدیوں سے نامناسب برتاؤ کے الزامات کی تردید کی ہے۔ امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ برائے انسانی حقو ق بیری لوئکران نے جنیوا میں تشدد مخالف کمیٹی کو بتایا کہ امریکی قوانین متشددانہ رویو ں کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔ گیارہ ستمبر سنہ 2001 کے حملوں کے بعد سینئر امریکی عہدیداران پہلی مرتبہ اس کمیٹی کے روبرو اپنے بیانات قلمبند کروا رہے ہیں۔ ِانسا نی حقوق کے عالمی اداروں کی جا نب سے کہا جاتا رہا ہے کہ امریکی حکومت اقوامِ متحدہ کے’تشدد مخالف قوانین‘ کی منحرف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ افغانستان، عراق، گوانتانامو بے اور کیوبا سمیت دنیا بھر میں قائم امریکی قید خانو ں میں غیر ملکی ملزمان کے ساتھ غیر انسانی سلو ک روا رکھا جا رہا ہے۔ بیری لوئکران نے کمیٹی کے سامنے اپنے ابتدائی بیان میں تشدد کے الزامات کو سختی سے مسترد کر تے ہوئے کہا کہ’میری حکو مت کی پوزیشن اس معاملے میں بالکل صاف ہے۔ امریکہ کا فوجداری قانون تشدد سے روکتا ہے اور تشدد قطعی غلط ہے‘۔ مسٹر لوئکران نے کہا کہ امریکہ کے زیرِانتظام عراقی جیل ابوغریب میں امریکی فوجیوں کی پر تشدد کارروائیاں ایک’ناقابلِ معافی‘ اور’ناقابلِ دفاع‘ جرم تھا۔ تاہم دنیا کو اس با ت کا نوٹس بھی لینا چاہیئے کہ اس سلسلے میں ڈھائی سو افراد کا احتساب کیا گیا۔
بی بی سی کے نامہ نگار راب واٹسن کا کہنا ہے کہ تشدد مخالف کمیٹی کی جنیوا میں ہو نے والی اس سما عت میں امریکہ نے تیس افراد پر مشتمل وفد بھیجا ہے جو تمام کے تما م نہا یت اہم عہدوں پر فائز ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ خود پر لگائے جانے والے تشدد کے الزاما ت کو بےحد سنجیدگی سے لے رہا ہے۔ امریکہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کنونشن کے تحت اس بات کا پابند ہے کہ وہ کمیٹی کی سفارشات پر عمل کرے۔ تاہم اس پر عمل درآمد کرانے کے لیئے کوئی نظام موجو د نہیں۔ اطلاعات ہیں کہ جنیوا میں جاری اس سما عت کے دوران امریکی عہدیداران سے کہا جائے گا کہ وہ دنیا بھر میں خفیہ امریکی عقوبت خانوں کی تفصیلات کے علاوہ ان میں مقید ملزمان کی شہریت اور ان پر لگائے گئے الزامات کی فہرست پیش کریں۔ دس قانو نی ماہرین پیر تک امریکی وفد کے ارکان پر جرح کریں گے جس کے بعد ایک تفصیلی رپورٹ مرتب کی جا ئے گی۔ کمیٹی کے پاس امریکی وفد کے لیئے انسٹھ سوالات ہیں جن میں سے ترپّن صرف’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ سے متعلق ہیں۔ | اسی بارے میں گوانتانامو: قیدیوں کی پہلی فہرست20 April, 2006 | آس پاس گوانتانامو والوں کے لیے امریکہ فکر مند18 April, 2006 | آس پاس ’سی آئی اے کے جہاز کیوں اُترے‘ 05 April, 2006 | آس پاس ’فوجی عدالتیں غیر آئینی ہیں‘29 March, 2006 | آس پاس گوانتانامو: قیدیوں کی شہادت04 March, 2006 | آس پاس امریکہ کا گوانتانامو بے بند کرنےسے انکار16 February, 2006 | آس پاس ’ گوانتاناموکا قانونی جواز نہیں‘14 February, 2006 | آس پاس ہم قیدیوں پر تشدد نہیں کرتے: بش07 November, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||