 | | | بیشتر قیدی گوانتانامو میں چار سال سے زائد سے رہ رہے ہیں |
امریکی فوج نے پہلی بار ایک سرکاری فہرست جاری کی ہے جس میں گوانتانامو بے کی امریکی جیل میں پانچ سو سے زائد قیدیوں کے نام ہیں۔ اس فہرست میں گزشتہ دو برسوں کے دوران امریکی فوج کے تفتیشی عمل سے گزرنے والے کل 558 افراد کے نام ہیں۔ کیوبا کےگوانتانامو بے کی امریکی جیل میں بیشتر وہ قیدی ہیں جنہیں گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد افغانستان میں لڑائی کے دوران پکڑا گیا تھا۔ بعد میں بھی امریکہ کی دہشت گردی مخالف جنگ میں کچھ دیگر ملکوں سے بعض افراد کو پکڑ کر یہاں قید کردیا گیا۔ نئی فہرست میں شامل قیدیوں کی شہریت کا تعلق اکتالیس ممالک سے ہے لیکن بیشتر سعودی عرب، افغانستان اور یمن سے ہیں۔ ان قیدیوں میں اکثریت ان افراد کی ہے جنہیں افغانستان میں طالبان حکومت کے زوال کے بعد افغانستان اور پاکستان سے گرفتار کیا گیا تھا۔ امریکی فوج کو یہ فہرست اس لیے جاری کرنی پڑی کیوں کہ امریکی خبررساں ادارے اے پی نے عدالت سے اس بارے میں رجوع کیا تھا۔ گزشتہ مارچ امریکی حکام نے فوجی ٹریبونل میں زیرسماعت گوانتاموبے کے قیدیوں کے بیانات جاری کیے تھے جس سے پہلی بار کچھ قیدیوں کے نام دنیا کے سامنے آئے تھے۔ گوانتانامو میں بیشتر قیدی چار سال سے رہ رہے ہیں لیکن انہیں عدالت تک رسائی نہیں ہے۔ حقوق انسانی کے ادارے امریکہ پر الزام لگاتے رہے ہیں کہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی میں امریکہ ان افراد کو قید میں رکھے ہوئے ہے۔
|