گوانتانامو: قیدیوں کی شہادت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی محکمۂ دفاع پینٹاگون نے پہلی بار گوانتانامو کے قیدیوں کے نام اور قومیتیں شائع کی ہیں۔ آزادئ اطلاعات کے قانون کے تحت امریکی خبررساں ایجنسی اے پی کی درخواست پر پینٹاگون نے چھ ہزار صفحات پر مشتمل جو دستاویزات شائع کی ہیں ان کا مطالعہ کرنے میں ہفتوں لگ سکتا ہے جس کے بعد ہی قیدیوں کی شناخت واضح ہوگی۔ بعض اوقات ٹرائیبونل میں شہادت دینے والے قیدی کا نام صرف ’قیدی‘ لکھا ہے۔ کچھ قیدیوں کے نام جن کی شناخت سماعت کے دوران ابھرکر سامنے آئی ہے حسب ذیل ہیں: فیروز علی عباسی وہ ہمیشہ کہتے رہے کہ انہیں بین الاقوامی قوانین کے تحت جنگی قیدی کا درجہ حاصل ہے۔ لیکن انہیں ایک امریکی کرنل نے کہا: ’میں بین الاقوامی قوانین کی پرواہ نہیں کرتا۔ میں دوبارہ بین الاقوامی قانون کا لفظ نہیں سننا چاہتا۔‘ قاری احتشام اللہ
ان کا کہنا ہے کہ پشتون معاشرے میں ’یہ بری بات ہے اگر آپ چیلنج قبول نہ کریں۔‘ انہوں نے کہا ہے کہ دشمن امریکہ نہیں تھا بلکہ ’فارسی بولنے والے لوگ جن کے پشتو بولنے والے لوگوں سے اختلافات ہیں۔‘ عبدالحکیم بخاری گوانتانامو کی جیل میں حالات کے بارے میں انہوں نے کہا: ’یہاں قیدی جنت میں ہیں۔ امریکی لوگ بڑے اچھے ہیں۔ حقیقت میں۔ وہ ہمیں تین وقت کھانا دیتے ہیں، پھلوں کا رس اور سب کچھ۔‘ پھر عبدالحکیم بخاری نے کہا کہ وہ واپس گھر جانا چاہتے ہیں اپنی فیملی سے ملنے۔ محمد شریف محمد شریف نے بار بار اپنے خلاف شواہد کا مطالبہ کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں: ’کوئی شواہد نہیں ہیں۔۔۔ یہ مضحکہ خیز بات ہے، مجھے معلوم ہے کہ (میرے خلاف) کوئی شواہد نہیں ہیں۔‘
عبدالغفار عبدالغفار کا کہنا ہے کہ انہیں پاکستان میں پکڑ کر امریکی حکومت کو ’فروخت‘ کردیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ چینی حکومت ان کی فیملی اور ان کے لوگوں کو اذیت دے رہی ہے۔ ظاہر شاہ انہوں نے اس الزام سے انکار کیا ہے کہ ان کے پاس راکٹ سے داغا جانے والا گرینیڈ لانچر تھا۔ ’ہم آر پی جی سے کیا کرتے؟ میں نے افغانستان میں صرف ایک کام کیا: کاشتکاری۔ ہم گیہوں، مکئی، سبزیاں اور تربوز کی کاشت کرتے تھے۔‘ سیف اللہ پراچہ سیف اللہ پراچہ نے انکار کیا ہے کہ انہوں نے القاعدہ کی مالی مدد کی یا اسامہ بن لادن کے لیے مترجم کا کام کیا۔ ان کا اس الزام سے بھی انکار ہے کہ انہوں امریکہ میں دھماکہ خیز مواد پہنچانے کی منصوبہ سازی کی۔ انہیں بتایا کہ وہ اپنا کیس امریکی عدالتوں میں پیش کرسکیں گے۔ انہوں نے ایک بار کہا: ’میں یہاں سترہ ماہ سے ہوں، ایسا کب ہوگا (کہ عدالت تک رسائی ہوگی) ، جب میں مرجاؤں گا؟‘ میش ارشد الرشید انہوں نے مزید کہا ہے: ’میں طالبان سے تعلق نہیں رکھتا۔ میں ایک صرف ایک شخص ہوں، ایک مددگار۔ میں دوستم کے خلاف لڑنے گیا تھا۔‘
ٹرائیبیونل کے سامنے دیگر شواہدات ٹرائیبیونل کے سربراہ نے کہا: ’آپ یا آپ کے بغیر یہ سماعت جاری رہے گی۔ آپ چاہیں تو اس میں حصہ لیں یا نہ لیں۔‘ دستاویزات سے ثابت ہوتا ہے کہ مشال عواد سیاف الحباری نامی ایک شخص نے خودکشی کرنے کی کوشش کی جس سے ’دماغ کافی زخمی ہوگیا کیوں کہ آکسیجن کی کمی ہوگئی۔‘ دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ صوفیان حیدرباش محافظوں کے حکم کے خلاف جیل کی ’اپنی کوٹھری میں ننگے کھڑے رہے۔‘ دستاویز کے مطابق، ’قیدی کا تحریر شدہ رویہ، طبی تاریخ، سائکلوجیکل (ذہنی امداد کی) سروسز سے فائدہ اٹھانے کی (ناکام) کوششوں سے لگتا ہے کہ اس قیدی کی حالت بدتر ہی ہورہی ہے۔‘ |
اسی بارے میں گوانتانامو: ’حالات بہتر ہوئے ہیں‘26 June, 2005 | آس پاس گوانتا نامو:کمیشن میں تبدیلیاں01 September, 2005 | آس پاس گوانتانامو میں قیدیوں کی ہڑتال09 September, 2005 | آس پاس ہم قیدیوں پر تشدد نہیں کرتے: بش07 November, 2005 | آس پاس گوانتانامو: قیدی بھوک ہڑتال پر07 October, 2005 | آس پاس ’ گوانتاناموکا قانونی جواز نہیں‘14 February, 2006 | آس پاس قیدیوں کے لیئے زبردستی خوراک10 February, 2006 | آس پاس گوانتانامو: ’امریکہ رکاوٹ ڈال رہا ہے‘23 June, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||