BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 04 March, 2006, 18:38 GMT 23:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گوانتانامو: قیدیوں کی شہادت
گوانتانامو: قیدیوں کے حالات کے بارے میں کم اطلاعات ملتی رہی ہیں
امریکی محکمۂ دفاع پینٹاگون نے پہلی بار گوانتانامو کے قیدیوں کے نام اور قومیتیں شائع کی ہیں۔ آزادئ اطلاعات کے قانون کے تحت امریکی خبررساں ایجنسی اے پی کی درخواست پر پینٹاگون نے چھ ہزار صفحات پر مشتمل جو دستاویزات شائع کی ہیں ان کا مطالعہ کرنے میں ہفتوں لگ سکتا ہے جس کے بعد ہی قیدیوں کی شناخت واضح ہوگی۔

بعض اوقات ٹرائیبونل میں شہادت دینے والے قیدی کا نام صرف ’قیدی‘ لکھا ہے۔ کچھ قیدیوں کے نام جن کی شناخت سماعت کے دوران ابھرکر سامنے آئی ہے حسب ذیل ہیں:

فیروز علی عباسی
فیروز علی عباسی برطانوی شہری ہیں۔ انہوں نے تحریری شکایت کی ہے کہ جب وہ عبادت کررہے تھے تو ان کے سامنے ملٹری پولیس کے ارکان نے جنسی روابط قائم کیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ جیل کے محافظوں نے انہیں ’سؤر‘ کا گوشت کھلانے کی کوشش کی جو کہ اسلام میں منع ہے۔ فیروز علی عباسی نے یہ بھی کہا ہے کہ انہیں غلط انفارمیشن دی گئی تاکہ وہ شمال یعنی امریکی کی جانب رخ کرکے عبادت کریں، مکہ کی جانب نہیں دی گئی۔

وہ ہمیشہ کہتے رہے کہ انہیں بین الاقوامی قوانین کے تحت جنگی قیدی کا درجہ حاصل ہے۔ لیکن انہیں ایک امریکی کرنل نے کہا: ’میں بین الاقوامی قوانین کی پرواہ نہیں کرتا۔ میں دوبارہ بین الاقوامی قانون کا لفظ نہیں سننا چاہتا۔‘

قاری احتشام اللہ

لڑنے کے لیےمعاشرے کا دباؤ
 میں نے ایسااس لئے کیا کیوں کہ گاؤں کے دوسرے لوگوں نے کہا کہ آپ گھر پر کیوں بیٹھے جو جب دوسرے لوگ امریکہ کے خلاف لڑرہے ہیں۔
قاری احتشام اللہ
انہیں مارچ دو ہزار دو میں مشرقی افغانستان میں پکڑا گیا۔ انہوں نے طالبان کو ریڈیو اور گرینیڈ فراہم کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ قاری احتشام اللہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایسا اس لئے کیا کیوں کہ گاؤں کے دوسرے لوگوں نے کہا کہ آپ گھر پر کیوں بیٹھے جو جب دوسرے لوگ امریکہ کے خلاف لڑرہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ پشتون معاشرے میں ’یہ بری بات ہے اگر آپ چیلنج قبول نہ کریں۔‘ انہوں نے کہا ہے کہ دشمن امریکہ نہیں تھا بلکہ ’فارسی بولنے والے لوگ جن کے پشتو بولنے والے لوگوں سے اختلافات ہیں۔‘

عبدالحکیم بخاری
عبدالحکیم بخاری کا کہنا ہے کہ انہیں طالبان نے اس لیے قید کردیا کیوں کہ طالبان مخالف رہنما احمد شاہ مسعود کی تعریف کرنے کی وجہ سے انہیں مخبر سمجھا جانے لگا۔

گوانتانامو کی جیل میں حالات کے بارے میں انہوں نے کہا: ’یہاں قیدی جنت میں ہیں۔ امریکی لوگ بڑے اچھے ہیں۔ حقیقت میں۔ وہ ہمیں تین وقت کھانا دیتے ہیں، پھلوں کا رس اور سب کچھ۔‘ پھر عبدالحکیم بخاری نے کہا کہ وہ واپس گھر جانا چاہتے ہیں اپنی فیملی سے ملنے۔

محمد شریف
انہوں نے انکار کیا ہے کہ وہ طالبان کے گارڈ رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ طالبان نے انہیں پکڑ لیا اور کام کرنے کے لیے مجبور کیا اور انہیں ان کی بات ماننی پڑی کیوں کہ ڈر تھا کہ ان کے گھروالوں پر حملہ کیا جائے گا۔

محمد شریف نے بار بار اپنے خلاف شواہد کا مطالبہ کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں: ’کوئی شواہد نہیں ہیں۔۔۔ یہ مضحکہ خیز بات ہے، مجھے معلوم ہے کہ (میرے خلاف) کوئی شواہد نہیں ہیں۔‘

جب منصف ہی دشمن ہو۔۔۔۔
 امریکی فوج میری مخالف ہے۔۔۔ اگر میرا مخالف میرا جج ہے۔۔۔ تو مجھے انصاف کی امید نہیں کرنی چاہیئے۔
گوانتامو کا ایک قیدی

عبدالغفار
چین کی اُگیور نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان ’میں تھے تاکہ چینی حکومت کے خلاف لڑنے کے لیے کچھ تریبت حاصل کرسکیں۔‘ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ سے انہیں کوئی شکایت نہیں ہے۔

عبدالغفار کا کہنا ہے کہ انہیں پاکستان میں پکڑ کر امریکی حکومت کو ’فروخت‘ کردیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ چینی حکومت ان کی فیملی اور ان کے لوگوں کو اذیت دے رہی ہے۔

ظاہر شاہ
ان کا کہنا ہے کہ ان کے گھر میں رائفل اس لئے تھی کیوں کہ ایک خاندانی رنجش کی وجہ سے اپنے کزن سے تحفظ کرسکیں۔ ظاہر شاہ نے بتایا ہے کہ انہوں نے امریکی افواج کے خلاف لڑائی نہیں کی ہے۔

انہوں نے اس الزام سے انکار کیا ہے کہ ان کے پاس راکٹ سے داغا جانے والا گرینیڈ لانچر تھا۔ ’ہم آر پی جی سے کیا کرتے؟ میں نے افغانستان میں صرف ایک کام کیا: کاشتکاری۔ ہم گیہوں، مکئی، سبزیاں اور تربوز کی کاشت کرتے تھے۔‘

سیف اللہ پراچہ
تھائی لینڈ سے گرفتار کرکے انہیں گوانتانامو بھیجا گیا۔ وہ کروڑ پتی تاجر ہیں اور نیو یارک انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے گریجویٹ ہیں۔ انہوں نے پاکستان میں دو بار اسامہ بن لادن سے ملاقات کرنے کا اعتراف کیا ہے۔

سیف اللہ پراچہ نے انکار کیا ہے کہ انہوں نے القاعدہ کی مالی مدد کی یا اسامہ بن لادن کے لیے مترجم کا کام کیا۔ ان کا اس الزام سے بھی انکار ہے کہ انہوں امریکہ میں دھماکہ خیز مواد پہنچانے کی منصوبہ سازی کی۔ انہیں بتایا کہ وہ اپنا کیس امریکی عدالتوں میں پیش کرسکیں گے۔ انہوں نے ایک بار کہا: ’میں یہاں سترہ ماہ سے ہوں، ایسا کب ہوگا (کہ عدالت تک رسائی ہوگی) ، جب میں مرجاؤں گا؟‘

میش ارشد الرشید
انہوں نے بتایا ہے کہ وہ عبدالرشید دوستم اور احمد شاہ مسعود سے لڑنے کے لیے افغانستان گئے۔ ’مجھے نہیں معلوم تھا کہ میری ٹریننگ القاعدہ کی ٹریننگ سمجھی جائے گی۔ میں مسلمانوں کی مدد کرنے کی کوشش کررہا تھا۔‘

انہوں نے مزید کہا ہے: ’میں طالبان سے تعلق نہیں رکھتا۔ میں ایک صرف ایک شخص ہوں، ایک مددگار۔ میں دوستم کے خلاف لڑنے گیا تھا۔‘

یہاں قیدی جنت میں ہیں
 یہاں قیدی جنت میں ہیں۔ امریکی لوگ بڑے اچھے ہیں۔ حقیقت میں۔ وہ ہمیں تین وقت کھانا دیتے ہیں، پھلوں کا رس اور سب کچھ۔
عبدالحکیم بخاری

ٹرائیبیونل کے سامنے دیگر شواہدات
کچھ ایسے قیدیوں نے جن کی شناخت نہیں کی گئی ہے بتایا کہ ٹرائیبیونل کے ارکان میں سے تین امریکی فوجی تھے۔ ایک نے کہا: ’امریکی فوج میری مخالف ہے۔۔۔ اگر میرا مخالف میرا جج ہے۔۔۔ تو مجھے انصاف کی امید نہیں کرنی چاہیئے۔‘

ٹرائیبیونل کے سربراہ نے کہا: ’آپ یا آپ کے بغیر یہ سماعت جاری رہے گی۔ آپ چاہیں تو اس میں حصہ لیں یا نہ لیں۔‘

دستاویزات سے ثابت ہوتا ہے کہ مشال عواد سیاف الحباری نامی ایک شخص نے خودکشی کرنے کی کوشش کی جس سے ’دماغ کافی زخمی ہوگیا کیوں کہ آکسیجن کی کمی ہوگئی۔‘

دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ صوفیان حیدرباش محافظوں کے حکم کے خلاف جیل کی ’اپنی کوٹھری میں ننگے کھڑے رہے۔‘ دستاویز کے مطابق، ’قیدی کا تحریر شدہ رویہ، طبی تاریخ، سائکلوجیکل (ذہنی امداد کی) سروسز سے فائدہ اٹھانے کی (ناکام) کوششوں سے لگتا ہے کہ اس قیدی کی حالت بدتر ہی ہورہی ہے۔‘

گوانتاموبےگوانتاناموبے کےبعد
گوانتاناموبے کے بعد معاشی اور ذہنی مسائل
کیمپ ڈیلٹاجیل ڈیلٹا میں’تشدد’
امریکی قید میں رہنے والے ایک برطانوی کی روداد
گوانتاناموگوانتانامو پر نئی کتاب
600قیدیوں میں چنددرجن دہشت گردہوں گے۔
صدر بشگوانتانامو بے
جرمن چانسلر انگلا مرکل کی تنقید مسترد
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد