BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 14 February, 2006, 01:36 GMT 06:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ گوانتاناموکا قانونی جواز نہیں‘
لگ بھگ چھ سو افراد گوانتانامو میں قید ہیں
خلیج گوانتانامو کے حراستی مرکز پر اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے اس قیدخانے میں قیدیوں سے روا رکھا جانے والا سلوک تشدد کے زمرے میں آتا ہے جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

امریکی اخبار ’لاس انجلس ٹائمز‘ نےجس کو اقوام متحدہ کی طرف سے مرتب کی گئی اس رپورٹ تک رسائی حاصل ہوئی گئی تھی کہا ہے کہ گوانتانامو کے قید خانے پر اس تحقیقاتی رپورٹ کے مرتب کرنے والوں نے تجویز کیا ہے کہ اس قید خانے کو بند کر دینا چاہیے۔

اس رپورٹ میں قید خانے کے قانونی جواز پر اور اس قید خانے میں رکھے جانے والے قیدیوں کی ’دشمن جنگجو‘ کے نام سے تشریح کرنے پر بھی سوالات اٹھائے گئےہیں۔

تاہم امریکی وزارتِ خارجہ نے اس رپورٹ پر اپنا ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ’سنی سنائی‘ باتوں پر مبنی ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان کے مطابق یہ رپورٹ حقیقت پر مبنی نہیں ہے کیوں کہ اقوام متحدہ نے اس امریکی پیشکش کو مسترد کردیا تھا جس میں اس کے اہلکاروں کو گوانتانامو کا دورہ کرنے کی بات کی گئی تھی۔

یہ رپورٹ اسی ہفتے شائع ہونے والی ہے لیکن اس کا کچھ مواد صحافیوں کے ہاتھ لگ گیا ہے۔ امریکہ کے مقتدر اخبار لاس انجلس ٹائمز نے اس رپورٹ کا کچھ حصہ سوموار کو اپنے شمارے میں شائع کیا اور اس رپورٹ کو مرتب کرنے والوں میں شامل اقوام متحدہ کے سپیشل رپورٹیئر آن ٹارچر مینفریڈ نواک سے بھی بات کی۔

منیفرڈ نواک نے لاس انجلس ٹائمز کو کہا کہ انہوں نے امریکی حکومت سے دیئے گئے تمام دلائل اور وضحاتوں کا بغور جائزہ لیا ہے اور کوئی نتیجہ جلدی میں نہیں نکالا۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم اس نتائج پر پہنچے ہیں کہ بہت سے کیسوں میں بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق اور تشدد کے عالمی اصولوں کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔‘

انہوں نےکہا کہ بہت سے قیدیوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا گیا وہ اقوام متحدہ کے تشدد کے خلاف کنوینش کے تحت تشدد کے زمرے میں آتا ہے۔

اس رپورٹ کے مصنفین کا کہنا ہے کہ انہوں نے گوانتانامو جانے کی امریکی پیشکش کو اس لیے مسترد کردیا تھا کیوں کہ ان کی رسائی قیدیوں تک نہیں ہوتی۔

خلیج گوانتانامو کے امریکی جیل میں بیشتر وہ افراد قید ہیں جنہیں گیارہ ستمبر کے بعد جنگِ افغانستان کے دوران پکڑا گیا تھا اور انہیں القاعدہ اور طالبان کا مشتبہ کارکن سمجھا جاتا ہے۔

اس رپورٹ میں اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں نے الزام لگایا ہے کہ بھوک ہڑتال کرنے والے قیدیوں کو ناک میں ٹیوب کے ذریعے زبردستی کھانا کھلایا جاتا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ شاید رپورٹ شائع ہونے کے بعد ہی واضح ہوسکے گا کہ یہ کیسے تیار کی گئی۔ لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ مصنفین نے گوانتانامو سے رہا کیے جانے والے کچھ افراد سے بات کی ہوگی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد