BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 10 February, 2006, 00:23 GMT 05:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قیدیوں کے لیئے زبردستی خوراک
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق گوانتانامو کے قید خانے میں قیدیوں کو گھنٹوں کرسیوں پر باندھ کر نلکیوں سے زبردستی خوراک دی جاتی ہے۔

اخبار کے مطابق زبردستی خوراک دینے کا یہ سخت ترین طریقہ حال ہی میں شروع ہوا ہے کیونکہ قیدی بھوک ہڑتال کر کےمرنا چاہ رہے تھے۔

ترجمان کرنل جرمی مارٹن کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال دسمبر سے اب تک قیدیوں کی طرف سے احتجاج کے واقعات میں خاصی کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کی تعداد پچھلے دو ماہ میں چوراسی سے کم ہو کر چار رہ گئی ہے۔ انہوں نے اخبار کو ایک بیان میں کہا کہ زیرِ حراست افراد کو کھانا دینے کے لئے ایک نظام وضع کیا گیا ہے۔

حقوقِ انسانی کے گروپوں نے ماضی میں امریکہ کو چیلنج کیا ہے کہ وہ بتائے کہ آیا گوانتانامو کے قیدی جو بھوک ہڑتا کرتے ہیں، انہیں زبردستی کھانا کھلایا جاتا ہے یا نہیں۔

امریکی فوج کے مطابق بھوک ہڑتال کی تعریف یہ ہے کہ کوئی قیدی مسلسل نو مرتبہ کھانا نہ کھائے۔

نیویارک ٹائمز میں اس خبر کے شائع ہونے کے بعد ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے ایک مرتبہ پھر مطالبہ کیا ہے کہ بین الاقوامی طبی ماہرین کو اس بات کی اجازت دی جائے کہ وہ گوانتانامو کے قید خانے میں جا سکیں اور بھوک ہڑتال پر جانے والے قیدیوں سے مل سکیں۔

تنظیم نے یہ بھی کہا ہے کہ امریکی حکام کو گوانتانامو جیسے قید خانے بند کرنے چاہیں۔

اخبار نے لکھا ہے کہ قیدیوں کو زبردستی کھلایا بھی جا رہا ہے اور انہیں کھانے کے بعد زبردستی قے کرنے سے بھی روکا جا رہا ہے۔ انہیں ایک دوسرے سے الگ گھنٹوں تک الگ الگ رکھا جاتا ہے تاکہ نہ وہ ایک دوسرے کو ہڑتال کرتے یا غذا سے بچتے دیکھیں اور نہ ان کی حوصلہ افزائی ہو۔

تاہم امریکی ترجمان نے کہا کہ قیدیوں کو زبردستی کھانا کھلایا جاتا ہے مگر اس کے لئے انسانی طریقہ اور رحم دلی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قیدیوں کو کھانا زبردستی اس وقت دیا جاتا ہے جب انتہائی ضروری ہو تاکہ قیدی زندہ رہیں۔

اخبار کے مطابق اگست میں قیدیوں کی طرف سے شروع کی جانے والی بھوک ہڑتال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ حکام کو خطرہ ہے کہ اس طرح خود کشی کے واقعات سے امریکہ کی عالمی سطح پر مذمت ہوگی۔

جب ترجمان سے پوچھا گیا کہ کیا احتجاج کے واقعات میں کمی کا سبب یہ ہے کہ قیدیوں کو زبردستی کھانا کھلایا جا رہا ہے تو انہوں نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد