کیمپ ڈیلٹا میں ’تشدد’ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کیوبا کی سرزمین پر قائم امریکی فوجی اڈے گوانتانامو بے سے آزاد ہونے والے پانچ برطانوی افراد میں سے ایک نے ذرائع ابلاغ کو انٹرویو دیتے ہوئے جیل میں ہونے والے ’برے سلوک، مار پیٹ، اور ذہنی اذیت’ کا تفصیلی ذکر کیا ہے۔ جمال الحارث کا بیان حال ہی میں چھوڑے جانے والے دو افغان بچوں کے بیان سے بہت مختلف ہے جنہوں نے امریکی فوجیوں کے رویے کی بہت تعریف کی تھی اور انگریزی زبان سکھانے پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا تھا۔ لیکن یہ بھی ہے کہ جمال بچوں کی جیل سے الگ کیمپ ڈیلٹا کے بڑے جیل خانے میں رہے جہاں ان کے مطابق انہیں اور دوسرے قیدیوں کو چودہ چودہ گھنٹے تک تاروں سے بنے پنجرے میں بند رکھا جاتا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں زنجیروں سے باندھ کر کم از کم چالیس مواقع پر تفتیش کے لئے لایا گیا اور ہر دفعہ یہ سلسلہ کئی گھنٹے تک جاری رہا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ جو قیدی زیادہ مذہبی رجحان رکھتے ہیں انہیں اذیت دینے کے لئے عورتوں کا استعمال کیا جاتا ہے، اور قیدیوں کو زبردستی ٹیکے لگائے جاتے ہیں اور انکار کرنے پر محافظ قیدیوں کو پیٹتے ہیں۔
جمال کو سن دو ہزار ایک میں افغانستان سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اسلامی ثقافت سیکھنے پاکستان گئے تھے جہاں سے وہ حادثاتی طور پر افغانستان پہنچ گئے، اور یہ کہ ان کا دنیا کے کسی بھی حصے میں دہشت گردی کی کارروائیوں سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا۔ انہوں نے اپنا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ وہ امریکیوں سے وجہ جاننا چاہتے ہیں کہ انہیں کیوں دو سال سے زیادہ جیل میں رکھا گیا۔ امریکی وزیر خارجہ کولن پاؤل نے کہا ہے کہ جمال کا دعویٰ کہ اس کے ساتھ مار پیٹ کی گئی، درست معلوم نہیں ہوتا کیونکہ امریکی افواج قیدیوں کے ساتھ جینیوا کنونشن کے مطابق سلوک کرتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ امریکیوں کو ملنے والے ثبوت برطانوی افراد کو حراست میں لئے جانے کے لئے کافی تھے اور انہیں دو سال تک جیل میں رکھنے کی بھی معقول وجوہات تھیں۔ جمال کے ساتھ چار دوسرے برطانوی افراد کو بھی رہا کیا گیا ہے اور معلوم ہوا ہے کہ برطانوی اخبار اور ٹی وی چینل ان کو سب سے پہلے انٹرویو کرنے کے لئے بڑی بڑی رقموں کی پیشکش کر رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||