BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 10 March, 2004, 01:04 GMT 06:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’امریکہ ناانصافیوں کا جواب دے‘
گوانتانامو بے
گوانتانامو بے
گوانتانامو سے رہا کئے جانے والے ایک برطانوی شخص جمال الحارث نے کہا ہے کہ امریکی حکومت کو ان کے ساتھ کی گئی ناانصافی اور ظالمانہ رویہ پر جوابدہ ہونا پڑے گا۔

جمال الحارث جوکہ جمال الدین کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں، ان پانچ افراد میں سے ایک ہیں جنہیں منگل کے روز گوانتانامو سے رہا کیا گیا تھا۔

ان پانچوں کے برطانیہ واپس پہنچنے کے بعد برطانوی حکام نے جمال الحارث کو آزاد کردیا۔ لندن پہنچتے ہی ان پانچوں کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔

اپنی رہائی کے بعد جمال الحارث نے ایک بیان جاری کیا جس میں انہوں نے کہا کہ بے گناہ ہونے کے باوجود انہیں حراست میں رکھا گیا اور ان کو ظالمانہ اور غیر انسانی سلوک کا نشانہ بنایا گیا۔

جمال الحارث کے وکیل نے کہا کہ جمال بے قصور ہیں اور وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ انہیں اتنے عرصہ حراست میں رکھنے کا کیا جواز ہے اور امریکی حکام نے ان کے ساتھ کیوں بے رحمی کا ذلت آمیز سلوک کیا۔

باقی چار کو دہشت گردی کی ان دفعات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے جو دہشت گردی کو ہوا دینے یا ایسی کارروائیوں میں مدد کرنے سے متعلق ہیں جبکہ پانچویں کو سرحدی حدود کے قوانین کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔

قانونی ماہروں کا خیال ہے کہ باقی چاروں کو مقدمات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ ان چاروں نے لندن کے اس مرکزی پولیس سٹیشن میں اپنی پہلی رات گزاری جہاں وہ کیوبا سے لائے گئے تھے۔

ان چاروں کو ایک ایک فون کال کرنے کی اجازت دی گئی تھی تاکہ وہ اپنی گھر والوں کو اپنی آمد کے بارے میں مطلع کرسکیں۔ اس کے علاوہ ان کا طبی معائنہ بھی کیا گیا تھا۔ ان سے پوچھ گچھ کا سلسلہ آج یعنی بدھ سے شروع ہوگا۔

برطانوی قانون کے مطابق انہیں چودہ روز تک حراست میں رکھا جاسکتا ہے جس کے بعد یا تو ان پر الزام عائد کرنا ہوگا یا بصورت دیگر انہیں رہا کرنا ہوگا۔

گوانتانامو
حکام سے مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ زیر حراست افراد کے ساتھ منصفانہ سلوک روا رکھا جائے

امریکہ نے ان پانچوں کو یہ کہہ کر گوانتانامو سے رہا کیا تھا کہ اب وہ امریکہ کے لئے خطرہ نہیں ہیں۔ چند مزید برطانوی شہری ابھی گوانتا نامو میں قید ہیں۔

ان پانچ قیدیوں کی رہائی کا فیصلہ کیوبا میں زیر حراست افراد کے اہل خانہ کی جانب سے صدر بش کو ایک احتجاجی خط لکھے جانے کے بعد کیا گیا تھا۔

کیوبا میں زیر حراست افراد کے اہل خانہ نے منگل کو واشنگٹن میں ایک احتجاجی مظاہرہ کیا تھا اور حکام سے مطالبہ کیا تھا کہ ان افراد کے ساتھ منصفانہ سلوک روا رکھا جائے۔ کئی برطانوی افراد گوانتانامو کے قیدیوں کی رہائی کے مطالبے کے لئے برطانیہ سے امریکہ گئے تھے۔

گوانتانامو میں قید نو برطانوی تقریباً دو سال سے حبسِ بے جا میں رکھے گئے ان چھ سو ساٹھ افراد میں شامل ہیں جن پر اب تک نہ تو کوئی مقدمہ چلایا گیا ہے اور نہ ہی انہیں کسی الزام سے آگاہ کیا گیا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد