BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Tuesday, 09 March, 2004, 15:52 GMT 20:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گوانتانامو: برطانوی قیدی رہا
معظم بیگ ابھی بھی قید میں
معظم بیگ ابھی بھی قید میں
امریکہ نے القاعدہ سے تعلق کے شبہے میں گرفتار برطانوی شہریوں میں سے پانچ کو گوانتانامو بے سے رہا کردیا ہے۔ اس سے پہلے امریکہ نے کچھ پاکستانی شہریوں کو بھی گوانتانامو بے سے رہا کیا تھا۔ لیکن اب بھی گوانتانامو میں لگ بھگ ساڑھے چھ سو قیدی موجود ہیں۔ ان میں سے بیشتر کو گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد طالبان کے خلاف امریکی جنگ کے دوران افغانستان سے گرفتار کیا گیا تھا۔

برطانوی وزیر داخلہ ڈیوڈ بلنکِٹ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ برطانیہ آمد پر پانچوں برطانوی قیدیوں پر عمومی قانونی کارروائی لاگو ہوگی۔ ڈیوڈ بلنکِٹ کا کہنا تھا کہ برطانیہ پہنچنے کے بعد ان افراد سے انسداد دہشتگردی کے اعلٰی اہلکار پوچھ گچھ کریں گے۔

گوانتامو سے پانچ برطانوی شہریوں کی رہائی کے بارے میں آپ کا کیا ردعمل ہے؟

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔


شفیق اعوان، لاہور: جرم کرنیوالے کو معاف نہیں کرنا چاہئے۔ قانون سب کے لئے ہونا چاہئے، یہ نہیں کہ صرف مسلمانوں کیلئے۔

عبدالغفور، ٹورانٹو: ان افراد کی رہائی وزیراعظم ٹونی بلیئر کے لئے ایک ریوارڈ ہے، کیونکہ انہوں نے صدر بش کو غیرمشروط سپورٹ دی تھی۔ اس رہائی سے ٹونی بلیئر پر برطانیہ میں دباؤ ختم ہوجائے گا۔ جنرل مشرف کو ان کا ریوارڈ کب ملے گا اور پاکستانیوں کو کب رہا کیا جائے گا؟

 برطانوی شہری ہونے کا کچھ فائدہ ہوا نہ۔ لیکن معظم بیگ صاحب کو تو یہ بھی نہ ہوا کیونکہ برطانوی نیشنل ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستانی بیکگراؤنڈ بھی تھا۔
شاہدہ اکرم، ابوظہبی

شاہدہ اکرم، ابوظہبی: اس سے پہلے بھی لکھ چکی ہوں اور پھر بھی یہی کہوں گی کہ برطانوی شہری ہونے کا کچھ فائدہ ہوا نہ۔ لیکن معظم بیگ صاحب کو تو یہ بھی نہ ہوا کیونکہ برطانوی نیشنل ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستانی بیکگراؤنڈ بھی تھا۔

معظم علی، پونہ، انڈیا: امریکہ اور برطانیہ ان دہشتگردوں کو چھوڑ کر سخت غلطی کررہے ہیں کیونکہ دنیا کے امن پسند مسلمانوں کا نام بدنام کرنیوالے ان مٹھی بھر لوگوں کو بدترین سزا ملنی چاہئے تاکہ آئندہ کوئی ماں اپنے نوجوان بچوں کو اس نام نہاد جہاد کی آگ میں نہ جھونکے۔

نسیم، پاکستان: ان بے گناہ قیدیوں کے لئے کون امریکی قوم سے معافی مانگے گا؟ اور انگلینڈ کے جو لوگ ان سے تفتیش کرینگے، کیا وہ امریکیوں سے اعلیٰ دماغ کے مالک ہیں؟

محمد نعیم چودھری، پاکستان: اس سے ظاہر ہوتا ہکہ گوانتانامو کے باقی قیدی امریکہ کے ناجائز قید میں ہیں۔ یہ عمل از خود دہشت گردانہ ہے، اس کی تفسیر کی جائے۔

عبدالحادی، کرغزستان: ان کی رہائی خوش آئند بات ہے مگر اس کے ساتھ ہی یہ دکھ بھی ہے کہ دیگر ساڑھے چھ سو قیدی ابھی تک یرغمال ہیں، بغیر کسی ضابطے کہ۔

سعید کھٹک، نوشہرہ، پاکستان: اگر امریکہ اپنے آپ کو امن کا علمبردار سمجھتا ہے تو اسے باقی ساڑھے چھ سو قیدیوں کو رہا کرنا چاہئے۔ ہمیں برطانوی قیدیوں کی رہائی پر خوشی ہے اور برطانوی حکومت کو چاہئے کہ ان افراد کو جلد از جلد ان کے گھر جانے دے۔

محمد ثاقب احمد، شیخپورہ، بہار: اس رہائی پر خوش ہونے کی ضرورت قطعی نہیں ہے جبکہ ابھی تک ساری دنیا میں گرفتاریاں جاری ہیں جبکہ کسی بھی قیدی پر فردجرم نہیں لگایا گیا ہے۔

 جو پاکستانی وہاں پر قید ہیں ان کے بارے میں آج تک اتنا پروپیگنڈہ کسی نے نہیں کیا ہے۔ کیا وہ کوئی اور مخلوق ہیں؟
سجاد حیدر

سجاد حیدر: میرے خیال میں امریکہ باقی افراد کو بھی رہا کرے کیونکہ اسامہ اور ملا عمر ابھی تک ان کی پہنچ سے دور ہیں۔ جبکہ جن قیدیوں کے بارے میں ثبوت ہیں ان پر دنیا کسی بھی عدالت میں مقدمہ چلانا چاہئے۔ اور جو پاکستانی وہاں پر قید ہیں ان کے بارے میں آج تک اتنا پروپیگنڈہ کسی نے نہیں کیا ہے۔ کیا وہ کوئی اور مخلوق ہیں؟

امین لغاری، دادو سندھ: امریکہ نے گوانتانامو بے میں بے گناہوں کو قید کرکے بڑا ظلم کیا ہے۔ امریکہ کو اس کا حساب دینا پڑے گا۔ دنیا کے انصاف پسندوں کو امریکہ سے حساب لینا چاہئے۔

اختر بلوچ، کراچی: امریکہ کا شکریہ کہ اس نے ان کو چھوڑ دیا۔ ورنہ تو یہ سب دہشت گرد ہیں ان کو نہیں چھوڑنا چاہئے تھا۔ ان لوگوں نے پوری دنیا کا امن اور سکون برباد کردیا۔

وسیم شہزادہ، پاکستان: تمام مسلم مجرموں کو چھوڑ دیں اور عیسائی اور دیگر مجرموں کو پکڑیں۔

جعفر، لاہور: یہ امریکہ کا بڑکپن ہے کہ اس نے ان دہشت گردوں کو چھوڑ دیا جو مغرب کے دشمن ہیں۔ برطانوی حکومت ان پر موت کا مقدمہ چلائے ورنہ باقی دہشت گردوں کا حوصلہ بڑھے گا۔

مصورت میواتی، کراچی: ان کی رہائی صرف برطانوی ہونے کی وجہ سے ہے کیونکہ ان کے اہل خانہ کی جانب سے عالمی سطح پر احتجاج کیا گیا۔

سید ندیم، جاپان: میری دعا ہے کہ سب قیدی رہا ہوجائیں اور جلد ہی انشاء اللہ ایسا ہوجائےگا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد