برطانوی اٹارنی جنرل کا بیان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی حکومت کے سب سے اعلیٰ قانونی مشیر اور ملک کے اٹارنی جنرل نے کہا ہے کہ خلیج گوانتانامو کی جیل میں قید مشتبہ دہشت گردوں کے مقدموں کی سماعت کے لیے امریکہ کے تجویز کردہ فوجی ٹربیونل انصاف کے بین الاقوامی تقاضوں کے مطابق نہیں۔ برطانوی حکومت پہلے بھی امریکہ سے کہہ چکی ہے کہ اس کے شہریوں پر بین الاقوامی انصاف کے تقاضوں کے مطابق مقدمہ چلایا جائے یا برطانیہ کے حوالے کر دیا جائے۔ برطانیہ عراق کی جنگ میں امریکہ کا قریب ترین اتحادی ہے۔ کیا آپ کی رائے میں برطانوی اٹارنی جنرل کا بیان اس مسئلے پر امریکہ کو نظرِ ثانی پر مجبور کرسکے گا؟ اگر امریکہ برطانوی شہریوں پر قانون اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق مقدمات چلاتا ہے تو کیا اسے باقی قیدیوں کو بھی یہی حقوق دینے ہوں گے؟ یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں رضا چٹھہ، گجرنوالہ: یہ ناممکن ہے کہ امریکہ اس پر نظرثانی کرے گا۔ جب امریکہ اپنے حقوق چاہتا ہے اپنے قیدیوں کے لئے، تو یہی حقوق دوسروں کو کیوں نہیں ملتے۔ خلیل اخون، بہاول نگر: اب ان قیدیوں کو انصاف ملا یا نہ، ظلم تو وہ برداشت کرچکے ہیں جو شروع میں ان پر کیا گیا۔ رہا سوال اٹارنی جنرل صاحب کا تو کوئی فائدہ نہیں، اس قانون کا امریکہ سمیت سب کو علم تھا۔ فوجی عدالت اس کا مطلب صرف سزا ہے، امریکہ اٹارنی جنرل کی بات نہیں مانے گا۔ صائمہ خان، کراچی: مجھے نہیں لگتا کہ امریکہ اس پر نظرثانی کرے گا۔ عمر مختار، لاہور: دیکھتے ہیں امریکہ بہادر کس حد تک اس بیان سے متاثر ہوکر نظرثانی کرتا ہے۔ ویسے بھی بلیئر صاحب تو پہلے ہی بش صاحب کے جیب میں ہیں۔ ساری دنیا امریکہ کے خودساختہ انصاف کو جانتی ہے جس کی خاطر وہ افغانستان آیا اور پھر عراق پر حملہ آور ہوا۔ ایک طرف اپنے فوجیوں کو جنگی جرائم سے استثنیٰ اور دوسری طرف مفتوح طالبان کے سارے حقوق سلب! یہ امریکہ بہار کا انصاف ہے؟ سجاد حیدر، پاکستان: برطانیہ کبھی بھی افغانی یا پاکستانی قیدیوں کے بارے میں کچھ نہیں کہے گا۔ اس کو صرف اپنے شہریوں کے ساتھ غرض ہے۔ راحت ملک، پاکستان: واجد علی خان، ٹورنٹو، کینیڈا: |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||