گوانتانامو والوں کے لیے امریکہ فکر مند | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کی سپریم کورٹ نے گوانتانومو میں قید دو چینی مسلمانوں کی رہائی کی اپیل مسترد کر دی ہے۔ امریکی سپریم کورٹ نے یہ اپیل اس بنا پر مسترد کی ہے کہ درخواست گزاروں کی ایک اور اپیل امریکہ کی ایک وفاقی عدالت کے سامنے کے زیر غور ہے جس پراگلے مہینے غور کیا جائےگا۔ چین کے صوبہ اوگہر کے دو مسلمان چینی باشندوں ابوبکر قاسم اور عبدو الحکم کو 2001 میں پاکستان سے گرفتار کر کے کیوبا میں واقعہ امریکی جیل خانے میں لایا گیا۔ پچھلے سال امریکہ نے ان دو چینی باشندوں کو چھتیس اور قیدیوں کےہمراہ ’ غیر خطرناک‘ ڈیکلیئر کر دیا تھا۔ امریکہ ان چینی قیدیوں کو اس بنا پر واپس ان کے ملک نہیں بھیج رہا کہ چین واپسی پر ان کو جان کو خطرہ ہو گا اور وہ وہاں پولیس تشدد سے ہلاک بھی ہو سکتے ہیں۔ لیکن دوسری جانب امریکہ چار سال سے اپنی قید میں رکھے ان چینی مسلمانوں کو امریکہ کی سر زمین پر آنے دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔ امریکہ کے نمائندے نے عدالت کو بتایا کہ ان دو چینی کو غیر خطرناک قرار دیے جانے کے بعد ان کو ٹیلویژن، سٹیریو سسٹم ، کتابیں اور دوسری سہولتیں فراہم کر دی گئی ہیں۔ | اسی بارے میں ’فوجی عدالتیں غیر آئینی ہیں‘29 March, 2006 | آس پاس گوانتانامو: قیدیوں کی شہادت04 March, 2006 | آس پاس ’ گوانتاناموکا قانونی جواز نہیں‘14 February, 2006 | آس پاس قیدیوں کے لیئے زبردستی خوراک10 February, 2006 | آس پاس گوانتانامو: جرمن چانسلر کا بیان رد13 January, 2006 | آس پاس گوانتانامو میں تشدد کے تازہ واقعات: ایمنسٹی 11 January, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||