BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 29 March, 2006, 03:11 GMT 08:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’فوجی عدالتیں غیر آئینی ہیں‘
فائل فوٹو
سلیم ہمدان سن دوہزار سے قید ہیں
امریکی سپریم کورٹ نے خلیج گوانتانامو میں قید لوگوں پر فوجی عدالتوں میں مقدمہ چلائے جانے کے معاملے کے قانونی پہلوؤں کےبارے میں ایک مقدمے کی سماعت شروع کی ہے۔

خیلج گوانتانامو میں قید اسامہ بن لادن کے سابق ڈرائیور سلیم احمد ہمدان کے وکلاء نے ان فوجی عدالتوں کو غیر آئینی قرار دیا ہے۔

قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ سپریم کورٹ کی طرف سے اس معاملے پر فیصلہ مشتبہ دہشت گردوں پر مقدمہ چلانے کے امریکی صدر کے اختیارات پر ایک بڑی قدغن لگا دے گا۔

سلیم ہمدان اپنے اوپر لگائے گئے دہشت گردی کی وارداتوں کی سازشوں میں ملوث ہونے کے الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

 سپریم کورٹ میں آنے سے پہلے چیف جسٹس جان رابرٹ اس عدالت کا حصہ تھے جس نے ہمدان کے خلاف فیصلہ سنایا تھا اسی بنا پر انہوں نے اپنے آپ کو اس مقدمے سے علیحدہ کر لیا ہے

سلیم ہمدان کے وکلاء نے واشنگٹن میں سپریم کورٹ کے ججوں کو سماعت کے دوران کہا کہ فوجی عدالتیں جنہیں ٹرائبیونلز یا فوجی کمیشنز بھی کہا جاتا ہے قانونی اعتبار سے ٹھیک نہیں تھے۔

امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق سلیم ہمدان کے وکیل نیل کیٹیال نے کہا ہ فوجی کمیشنز امریکی قوانین، آئین اور عالمی معاہدوں کے پابند نہیں ہوتے۔

انہوں نے کہا کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد پہلی دفعہ وجود میں آنے والے ان کمیشنز سے انیس سو انچاس کے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔

بش انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس کنونشن کا اطلاق القاعدہ کے اراکین پر نہیں ہوتا۔

سلیم ہمدان سن دوہزار دو سے خلیج گوانتانامو میں قید ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بن لادن کے ڈرائیور کی حیثیت سے وہ معمولی معاوضے پر کام کرتے تھے اور ان کا القاعدہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

خلیج گوانتانامو میں قید چار سو نوے قیدیوں میں سے دس پر فوجی عدالتوں میں مقدمہ چلایا جارہا ہے۔ یہ فوجی عدالتیں یا فوجی کمیشن صدر بش کے حکم کے تحت امریکی وزارتِ دفاع نے قائم کیئے ہیں۔

گزشتہ سال ہمدان کے مقدمے کی سماعت اس وقت روک دی گئی تھی جب ایک وفاقی عدالت نے کہا تھا کہ ان پر اسی وقت فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا جا سکتا ہے جب یہ ثابت ہوجائے کہ وہ جنگی قیدی ہیں۔

سپریم کورٹ میں آنے سے پہلے چیف جسٹس جان رابرٹ اس عدالت کا حصہ تھے جس نے ہمدان کے خلاف فیصلہ سنایا تھا۔

اسی بنا پر رابرٹ نے اپنے آپ کو اس مقدمے سے علیحدہ کر لیا ہے اور اب اس مقدمے میں سماعت سپریم کورٹ کے باقی جج کریں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد