BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 10 March, 2006, 09:20 GMT 14:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گوانتانامو: ڈاکٹروں کی مذمت
گوانتانامو
گوانتانامو میں اس وقت پانچ سو سے زائد مشتبہ افراد قید ہیں
دنیا بھر کے دو سو پچاس طبی ماہرین نے ایک خط کے ذریعے گوانتانامو بے میں قیدیوں کی زبردستی بھوک ہڑتال ختم کروانے کے عمل کی مذمت کی ہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ قید خانے میں موجود فزیشنز کو قیدیوں کی جانب سے طبی سہولیات سے انکار کے حق کو تسلیم کرنا چاہیے۔

اس خط میں جو ایک طبی رسالے ’دی لینسٹ‘ میں شائع ہوا ہے ، کہا گیا ہے کہ قیدیوں کی بھوک ہڑتال کو زبردستی ختم کروانے والے ڈاکٹروں کے خلاف پروفیشنل تنظیموں کو کارروائی کرنی چاہیے۔

گوانتانامو بے میں اس وقت پانچ سو سے زائد مشتبہ افراد قید ہیں جن پر اب تک کوئی مقدمہ نہیں چلایا گیا ہے۔

امریکہ کا اس بارے میں کہنا ہے کہ کیمپ میں موجود قیدیوں پر جینوا کنوینشن کا اطلاق نہیں ہوتا۔ اس کا کہنا ہے کہ قیدی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ نے امریکہ کوگوانتانامو کو بند کرنے کا کہا ہے۔

ایمنٹسی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں کا مذکورہ خط قیدیوں کے آزادانہ طور پر باہر کے ڈاکٹروں سے طبی معائنہ کرانے کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔

اس کھلے خط پر امریکہ، برطانیہ ، آسٹریلیا، اٹلی، آئر لینڈ اور نیدر لینڈ سے تعلق رکھنے والے دو سو پچاس ڈاکٹروں نے دستخط کیے ہیں۔

خط میں کہا گیا ہے ’ہم امریکہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ قیدیوں کا باہر کے ڈاکٹروں سے طبی معائنہ کروانے کو یقینی بنائے اور ان کی بھوک ہڑتال زبردستی ختم کروانے پر مجبور کرنے جیسے حربے فوری طور پر ترک کیے جائیں‘۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ورلڈ میڈیکل ایسوسی ایشن فورس فیڈنگ یا زبردستی کھلانے کی ممانعت کرتی ہے۔

کیمپ کےقیدیوں کا کہنا ہے کہ بھول ہڑتالیوں کو زبردستی کرسیوں سے باندھ کر ان کی ناکوں میں نالیاں ڈال کر غذا ڈالی گئی۔

قیدیوں کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ گزشتہ سال دسمبر سے بھوک ہڑتال پر تھے۔ اطلاعات کے مطابق ان کی تعداد گھٹتے گھٹتے اب چار تک پہنچ گئی ہے۔

برطانیہ کے نیورو لوجسٹ ڈاکٹر ڈیوڈ نیچل نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ فورس فیڈنگ کے الزامات امریکی میڈیکل ایسوسی ایشن کے لیے ایک چیلنج ہیں کیونکہ وہ ورلڈ میڈیکل ایسوسی ایشن کے ضابطہ اخلاق پر عمل کرنے کی پابند ہے جو فورس فیڈنگ کی ممانعت کرتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد