ایران پر عالمی طاقتیں متفق نہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیویارک میں عالمی طاقتوں کے وزرائے خارجہ ایران کے جوہری معاملے پر کسی متفقہ نتیجے پر پہنچے میں ناکام رہے ہیں۔ امریکی وزارتِ خارجہ کے اعلٰی افسر کے مطابق ایران پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد سے متعلق سمجھوتے کا امکانات روشن نہیں۔ ان کا کہنا تھا بات چیت جاری رہے گی اور سلامتی کونسل کے سیاسی ڈائریکٹر آئندہ ہفتے ملاقات کریں گے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ جس نہج پر حالات جا رہے ہیں امریکہ اس سے مطمئن ہے۔ عالمی طاقتوں کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں اس بات پر بھی غور کیا گیا کہ ایران کو ایسی کیا پیشکش کی جائے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کے حساس معاملات سے دستبردار ہو جائے۔ اس اجلاس کے بعد فرانس کے وزیرِ خارجہ فلپ بلیزی نے کہا کہ اس بات پر سب متفق ہیں کہ اقوامِ متحدہ کی قرارداد ضروری ہے اور ہم ابھی اپنا کام رک رہے ہیں۔ اس اجلاس سے قبل چین نے کہا تھا کہ ایران کے جوہری پروگرام سےمتعلق مجوزہ قرارداد دنیا کو جنگ کی جانب دھکیل سکتی ہے۔ سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکان اور جرمنی کے وزارئے خارجہ کی ملاقات سے پہلے اقوام متحدہ میں چین کے سفیر وانگ گوانگیا نے قرارداد کے محرک برطانیہ اور فرانس سے کہا کہ وہ قرارداد میں کوئی ایسی شق شامل کرنے پر زور نہ دیں جس سے ایران کے خلاف پابندیاں لگائی جا سکتی ہوں یا فوجی کارروائی کی گنجائش ہو۔ چین اور روس ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے سکیورٹی کونسل کی مجوزہ قرارداد کی مخالفت کر رہے ہیں اور ان کا موقف ہے کہ اس قرارداد میں ’چیپٹر سات‘ کا کوئی ذکر نہیں ہونا چاہیے۔ ادھر امریکہ کی وزیرِ خارجہ کونڈالیزا رائس نے ایرانی صدر کی جانب سے صدر بش کو بھیجے جانے والے خط کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ’ اس میں ایسا کچھ نہیں جس سے کوئی نئی راہ نکل سکے‘۔
پیر کے روز سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن اور جرمنی کے سفارت کار امریکی وزیر خارجہ کونڈو لیزا رائس کی جانب سے دیئےگئے ظہرانے پر مدعو تھے جہاں انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں مجوزہ قرارداد پر بات چیت کی تھی۔ سنیچر کے روز سلامتی کونسل کے غیر رسمی اجلاس میں قرار داد کے مسودہ پر اتفاق رائے پیدا نہیں ہو سکا تھا۔ تاہم اقوام متحدہ میں امریکہ کے سفیر جان بولٹن نے کہا ہے کہ ان کا ملک موجودہ ہفتے میں ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں قرارداد پر ووٹنگ کو ترجیح دے گا خواہ روس اور چین مجوزہ قرارداد کو مانتے ہیں یا نہیں۔ روس اور چین کا موقف ہے کہ ایرانی جوہری پروگرام پر عالمی خدشات کی وجہ سے قرارداد منظور ہونی چاہیے لیکن اس میں چیپٹر سات کا کوئی ذکر نہیں ہونا چاہیے جس کے تحت ایران کے خلاف تادیبی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ چین کا موقف ہے کہ مغربی طاقتوں کی طرف سے پیش کی گئی اس قرارداد کے تحت ایران کے خلاف فوجی طاقت کے استعمال کا راستہ کھل جائے گا۔ قرارداد کے مسودے میں ایران سے کہا گیا ہے کہ یورینیم کی افزودگی روکے اور نہ روکنے کی صورت میں اس کے خلاف مزید کارروائیاں کی جاسکتی ہیں۔ایران کا کہنا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے لیکن مغربی ممالک کو تشویش ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش کررہا ہے۔ |
اسی بارے میں ایران ناکام رہا ہے: آئی اے ای اے28 April, 2006 | آس پاس ’یورپ بحران پیدا کرنا چاہتا ہے‘05 May, 2006 | آس پاس سلامتی کونسل میں ایران پر بحث04 May, 2006 | آس پاس پابندیاں لگنے کا امکان نہیں: ایران02 May, 2006 | آس پاس جوہری توانائی مطلق حق ہے: نژاد 29 April, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||