ایران کا خط بے مقصد ہے:امریکہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے ایران کے صدر احمدی نژاد کی طرف سے امریکی ہم منصب جارج بش کو لکھے گئے خط کے موصول ہونے کی تصدیق کی ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ اس خط سے ایران کے بارے میں دنیا کے خدشات ختم کرنے میں کوئی نہیں ملے گی۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا کہ اس خط میں دنیا کے ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں خدشات کو دور کرنے کی کوشش نہیں کی گئی ہے جو اپنی جگہ برقرار ہیں۔ ایرانی حکومت کا کہنا ہے کہ ایران کےصدر محمود احمدی نژاد نےاپنے امریکی ہم منصب جارج بش کو ایک خط تحریر کیا ہے جس میں عالمی مسائل کے حل کی تجاویز پیش کی گئی ہیں۔ ایرانی صدر نے یہ خط تہران میں سوئٹزرلینڈ کے سفارت خانے کے ذریعے امریکہ کو بھیجا اور یہ 1979 کے بعد کسی ایرانی صدر کی طرف سے امریکی ہم منصب کے ساتھ پہلی خط و کتابت ہے۔ ایران نے کہا تھا کہ اس خط سے دنیا کےمعاملات کو ٹھیک کرنے میں مدد ملے گی لیکن ایران کے اس خیال کو فوراً مسترد کر دیا۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان سے جب پوچھا گیا کہ کیا امریکہ صدر نے خود ایرانی صدر کا خط پڑھا ہے تو انہوں نے کہا کہ وہ صرف خط موصول ہونے کی تصدیق کر سکتے ہیں۔ ایران کے حکومتی ترجمان غلام حسن الہام کے مطابق اس خط میں بین الاقوامی حالات کا جائزہ لیا گیا ہے اور دنیا کے موجودہ سیاسی حالات اور مسائل کے حل کی نئی تجاویز بھی دی گئی ہیں۔ تاہم ترجمان نے یہ نہیں بتایا کہ اس خط میں ایران کے جوہری تنازعے کا ذکر ہے یا نہیں کیونکہ یہی وہ مسئلہ ہے جو امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ تناؤ کی وجہ ہے۔ امریکہ ایران پر جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے لیئے کوشش کرنے کا الزام لگاتا ہے جسے ایران اب تک مسترد کرتا آیا ہے۔ امریکہ نے ایران سے اپنے سفارتی تعلقات 1980 میں تہران میں امریکی سفارت خانے پر ایرانی عوام کے قبضے اور باون امریکیوں کو یرغمال بنائے جانے کے بعد منقطع کر لیئے تھے۔ تہران میں بی بی سی کی نمائندہ فرانسس ہیریسن کا کہنا ہے کہ چاہے یہ صرف ایک خط ہے لیکن اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ دونوں ممالک کے درمیان تین عشروں میں ہونے والا پہلا اعلٰی سطحی رابطہ ہے۔ ایرانی صدر نے اس خط کے ذریعے یہ تاثر بھی دینے کی کوشش کی ہے کہ وہ جوہری تنازعے کے حل کی خاطر امریکی صدر سمیت کسی سے بھی مذاکرات کر سکتے ہیں۔ | اسی بارے میں بش کے نام احمدی نژاد کا خط08 May, 2006 | آس پاس ایران قرارداد: روس، چین کی مخالفت06 May, 2006 | آس پاس ’یورپ بحران پیدا کرنا چاہتا ہے‘05 May, 2006 | آس پاس سلامتی کونسل میں ایران پر بحث04 May, 2006 | آس پاس پابندیاں لگنے کا امکان نہیں: ایران02 May, 2006 | آس پاس ایران پر سخت قرار داد کی دھمکی02 May, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||