BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 07 May, 2006, 14:02 GMT 19:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
این پی ٹی سے الگ ہونے کی دھمکی
 اصفہان
کہا جاتا ہے کہ اصفہان میں واقع ایرانی کے ایٹمی پلانٹ میں یورینیم کی افزودگی جاری ہے
ایرانی پارلیمنٹ نے کہا ہے کہ اگر مغربی دباؤ برقرار رہتا ہے تو حکومت ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے سے الگ ہو جائے۔

یہ دھمکی اس وقت دی گئی ہے جب ایک روز بعد سلامتی کونسل کے ارکان ایران کے بارے میں ایک سخت قرارداد کے مسودے پر بحث شروع کرنے والے ہیں۔

تہران میں نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے سے علیحدگی کی دھمکی کا مطلب یہ ہے کہ ایران نے عدم تعاون کا حتمی اعلان کر دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کوفی عنان کے نام لکھے جانے والے ایک خط میں ایرانی پارلیمنٹ نے کہا ہے کہ اگر اس معاملے کا پرامن حل نہیں نکالا جاتا ’تو حکومت کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں رہتا کہ وہ حکومت سے معاہدے سے تعلق ختم کرنے کے لیے کہے‘۔

اس کی گونج صدر احمدی نزاد کے اس بیان میں بھی سنائی دیتی ہے۔ جس میں انہوں نے کہا ہے کہ اگر عدم پھیلاؤ کا معاہدہ قوموں کے حقوق کا تحفظ نہیں کر سکتا تو اس کیا اہمیت ہے۔

قرارداد کے مسودے ایران کو دھمکی دی گئی ہے کہ اگر اس نے یورینیم کی افزودگی نہ روکی تو اس کے خلاف مزید اقدامات کیے جا سکتے۔

فرانس اور برطانیہ کی جانب سے سلامتی کونسل میں پیش کی گئی قرار داد میں ایران سے کہا گیا ہے کہ ’یورینیم کی افزودگی روکے اور نہ روکنے کی صورت میں اس کے خلاف مزید اقدام کیے جا سکتے ہیں‘۔

ایران
ایران کا کہنا ہے کہ اسے پرامن مقصد کے لیے ایٹمی توانائی کے حصول کا حق حاصل ہے

ایران کا کہنا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے لیکن مغربی ممالک کو تشویش ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش کررہا ہے۔

سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک سنیچر کو غیررسمی ملاقات میں اپنے اختلافات پر غور کرنے کے لیے ملاقات کر چکے ہیں اور پیر کو سلامتی کونسل میں باقاعدہ بحث متوقع ہے۔

لیکن روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی کِسلیاک نے روسی ذرائع ابلاغ کو یہ بتایا ہے کہ قرارداد کے مسودے میں ’بڑی تبدیلیوں‘ کی ضرورت ہے اور ’جاری رہے گی‘۔

قرارداد کی حمایت کرنے والے سلامتی کونسل کے اراکین امید کررہے ہیں کہ پیر کو نیویارک میں کونسل کے اجلاس سے قبل مسودے پر اتفاق ہوجائے۔

لیکن بی بی سی کی صحافی لورا ٹریولین کا کہنا ہے کہ قرارداد پر اتفاق مشکل لگتا ہے کیوں کہ چین اور روس کے پاس ویٹو کا حق ہے۔

عدم پھیلاؤ کے معاہدے سے علیحدگی کے لیے تین ماہ کا نوٹس درکار ہوتا ہے اور اس کے بعد باقی دنیا کو کوئی علم نہیں ہو سکے گا کہ ایران کا ایٹمی پروگرام کس مرحلے میں ہے یا ایران کیا کر رہا ہے۔

اصفہان کا ایٹمی پلانٹایرانی پیش رفت
یورینیم کی افزدگی میں ایرانی پیش رفت
وزیرِخارجہ جیک سٹراایران پرایٹمی حملہ
امریکی حملہ، امریکی اطلاعات، برطانوی تردید
حملہ کب اور کیسے؟
ایران پر حملہ، قیاس آرائیاں اور ممکنات
تیلایران جوہری معاملہ
تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے کا خدشہ
فوجی حل پر اتفاق
ایران پر حملے کی تجویز پر امریکی سینیٹر متفق
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد