ایران تنازع: تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کے عالمی جوہری ادارے آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کو جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت نہ دینے کی خبر سے تیل کی قیمتوں میں بڑی تیزی سے اضافہ ہوگیا ہے۔ تیل کی فی بیرل قیمت ایک عشاریہ صفر ایک ڈالر کے اضافے سے اس وقت چھیاسٹھ اعشاریہ تین آٹھ ڈالر تک پہنچ گئی ہے جبکہ ’برینٹ کروڈ‘ آئل ستانوے سینٹ کے اضافے سے فی بیرل قیمت چونسٹھ اعشاریہ اڑتیس ڈالر تک پہنچ گیا۔ اتوار کو ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے اقوام متحدہ کے جوہری ادارے آئی اے ای اے کے خصوصی معائنہ کاروں کو جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا۔ اس سے قبل سنیچر کو آئی اے ای اے کے بورڈ کے پینتیس ارکان میں سے ستائیس نے ایران کے جوہری معاملے کو سلامتی کونسل کے سپرد کرنے کی قرار داد کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ گزشتہ ہفتے ایران نے مغربی ممالک کو اس بات کی دوبارہ یقین دہانی کروائی تھی کہ اقوام متحدہ کی ممکنہ پابندیوں کے خدشے کے باوجود وہ تیل کی برآمدات میں کمی کا کوئی منصوبہ نہیں رکھتا۔ تاہم تیل کے تاجروں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اقوام متحدہ کے اس اقدام کے بعد تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ سال تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا تھا اور خام تیل کی فی بیرل قیمت ستر اعشاریہ آٹھ پانچ ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کا معاملہ سلامتی کونسل کے سپرد کرنے کی خبر نے ہی تیل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے اور اگر ایسا ہو گیا تو قیمتیں اور بڑھ جائیں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایران اس صورت حال سے خوش نہیں ہے اور اس نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ وہ جوہری پروگرام کے معاملے کو تیل سے الگ رکھے گا تاہم اس سے قبل اس نے یہ بھی کہا تھا کہ تیل کو جوہری پروگرام کے معاملے میں بطور ہتھیار بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس صورت حال نے تیل کی صنعت سے وابستہ افراد کے لیےجلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ | اسی بارے میں افزودگی شروع کردیں گے: ایران01 February, 2006 | آس پاس ویانا اجلاس: ایران کے معاملے پرغور02 February, 2006 | آس پاس ایران کا فیصلہ کل ہو گا02 February, 2006 | آس پاس ایران کو سلامتی کونسل کا سامنا03 February, 2006 | آس پاس ایران’مذاکرات کے لیے تیار ہے‘05 February, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||