ایران’مذاکرات کے لیے تیار ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران نے کہا ہے کہ جوہری مسئلے پر مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے۔ ایران نے یہ بیان اقوام متحدہ کی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ایران کے مسئلے کو سلامتی کونسل میں بھیجنے کے فیصلے کے اگلے دن دیا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان حامد رضا آصفی نے کہا ہے کہ ایران روس کی تجویز کے بارے میں سمجھوتے پر مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ لیکن انہوں نے کہا ہے کہ روس میں یورینیم کی افزودگی کی تجویز کو نئی صورت حال کے مناسبت سے ڈھالنا ہو گا۔ روس اور ایران نے اس معاملے پر سولہ فروری سے مذاکرات کرنے پر اتفاق کیا ہے جسے مغرب بھی ایک ممکنہ حل کے طور پر دیکھتا ہے۔ امریکہ کے صدر جارج بش نے ہفتہ کے روز کہا ہے کہ معاملے کو سلامتی کونسل میں بھیجنے کے فیصلے سے ایرانی حکومت کو واضع طور پر یہ پیغام جائے گا کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنا سکتا۔ ایران کے جوہری تنازعے کو سلامتی کونسل میں بھیجنے کا فیصلہ جسے جوہری توانائی ایجنسی کے پینتیس ممبران میں سے ستائیس نے منظور کیا ایران پر ممکنہ پابندیوں پر منتج ہو سکتا ہے۔ یورینیم کی افزودگی ایک ایسا عمل ہے جس سے جوہری ری ایکٹر کے لیے ایندھن فراہم کیا جاتا ہے لیکن اس سے جوہری ہتھیار بھی بنائے جا سکتے ہیں۔ سینچر کے روز ایران کے مذاکراتی نمائندے جوار ویدی نے روس میں یورینیم کی افزودگی کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا اور کہا کہ ابھی تک یہ واضع نہیں ہے کہ اس تجویز کو کس طرح دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم حامد رضا آصفی کا کہنا ہے کہ آئی اے ای اے کا فیصلہ حرف آخر نہیں ہے اور ایران اب بھی مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’مذاکرات کا دوسرا دور جاری رہے گا لیکن روس میں یورینیم کی افزودگی کو نئی صورتحال کے مطابق ڈھالنا ہو گا تاکہ ہم اس کا جائزہ لے سکیں‘۔ ایران کا کہنا ہے کہ وہ پر امن مقاصد کے لیے جوہری تونائی کا حصول چاہتا ہے لیکن آئی اے ای اے کی حالیہ قرارداد میں ایران سے کہا گیا ہے کہ وہ ادارے سے تعاون کرے اور اپنی سرگرمیوں کی وضاحت کرے جس کی عسکری جہتیں بھی ہو سکتی ہیں۔ تاہم اس قرارداد میں مزید کسی کارروائی کو چھ مارچ تک کی ملاقات تک کے لیے موخر کر دیا گیا ہے اور اس موقع پر ادارے کے سربراہ محمد البرادئی اپنی رپورٹ پیش کریں گے۔ محمد البرادئی کا کہنا ہے کہ ’یہ نازک مرحلہ ہے تاہم یہ کوئی بحران نہیں ہے‘۔ روس اور چین نے اس قرارداد کی حمایت اس شرط پر کی ہے کہ اس میں ایران پر پابندیوں کا فوری خطرہ نہیں ہونا چاہیے۔ امریکی صدر بش کا کہنا ہے کہ آئی اے ای اے کی معاملے کو سلامتی کونسل میں بھیجنے کی قرارداد مذاکرات کا اختتام نہیں ہے بلکہ ’یہ سفارتی کوششوں میں تیزی ہے‘۔ تاہم انہوں نے امریکی سینٹ سے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا ہے کہ آئی اے ای اے کا فیصلہ ایران کو اس کے جوہری تونائی کے حق سے محروم نہیں کرے گا۔ |
اسی بارے میں ایران کو سلامتی کونسل کا سامنا03 February, 2006 | آس پاس ’معاملہ نازک ہے، بحرانی نہیں‘03 February, 2006 | آس پاس ایران کا فیصلہ کل ہو گا02 February, 2006 | آس پاس ویانا اجلاس: ایران کے معاملے پرغور02 February, 2006 | آس پاس افزودگی شروع کردیں گے: ایران01 February, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||