تیل: صدر بش کی نئی منصوبہ بندی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش نے تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں میں کمی لانے کی غرض سے نئے منصوبوں کا افتتاح کیا ہے اور ساتھ ہی تیل کی قیمتیں جمانے کے معاملے میں ایک انکوائری کا حکم دیا ہے۔ صدر بش نے رینیوئیبل فیولز ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو خام تیل کی قیمتیں ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہیں لہذا امریکہ کو تیل پر انحصار کی پالیسی بدلنا ہوگی۔ امریکہ میں یہ فیصلہ بھی ہوا ہے کہ دفاعی اہمیت کے تیل کے ذخائر کو بھرنے کی بجائے تیل کی ملکی پیداوار میں اضافہ کیا جائے گا اورمتبادل ذرائع کو فروغ دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تیل اور پیٹرول کی قیمتیں قومی سلامتی کا مسئلہ ہیں۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکہ کے سامنے اصل مشکل یہ ہے کہ ملکی ضرورت کے تیل کا ساٹھ فیصد بیرونی دنیا سے حاصل کرتا ہے جن میں سے اکثر ممالک میں حکومتیں عدم استحکام کا شکار ہیں اور وہاں کی پالیسیاں امریکہ کے مخالف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اب امریکہ کو توانائی کے شعبے میں آزاد ہونے کے لیئے کوششیں تیز کرنا ہوں گی، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عام صارفین پیٹرول کی زیادہ قیمت ادا کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تیل کی اوپر چڑھتی ہوئی قیمتیں ایک ایسا چھپا ہوا ٹیکس ہے جس سے عوام کو تکلیف ہوتی ہے۔ امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے فیڈرل ٹیکس کمیشن سے کہا ہے کہ وہ انکوائری کرے کہ کہیں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیچھے مارکیٹ کی کارستانی تو نہیں۔ | اسی بارے میں تیل کی عالمی قیمت میں اضافہ18 April, 2006 | آس پاس ایران تنازع: تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں07 February, 2006 | آس پاس امریکہ اور تیل کی سیاست10 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||