BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 26 April, 2006, 02:41 GMT 07:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تیل: صدر بش کی نئی منصوبہ بندی
امریکی صدر جارج بش نے تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں میں کمی لانے کی غرض سے نئے منصوبوں کا افتتاح کیا ہے اور ساتھ ہی تیل کی قیمتیں جمانے کے معاملے میں ایک انکوائری کا حکم دیا ہے۔

صدر بش نے رینیوئیبل فیولز ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو خام تیل کی قیمتیں ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہیں لہذا امریکہ کو تیل پر انحصار کی پالیسی بدلنا ہوگی۔

امریکہ میں یہ فیصلہ بھی ہوا ہے کہ دفاعی اہمیت کے تیل کے ذخائر کو بھرنے کی بجائے تیل کی ملکی پیداوار میں اضافہ کیا جائے گا اورمتبادل ذرائع کو فروغ دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ تیل اور پیٹرول کی قیمتیں قومی سلامتی کا مسئلہ ہیں۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکہ کے سامنے اصل مشکل یہ ہے کہ ملکی ضرورت کے تیل کا ساٹھ فیصد بیرونی دنیا سے حاصل کرتا ہے جن میں سے اکثر ممالک میں حکومتیں عدم استحکام کا شکار ہیں اور وہاں کی پالیسیاں امریکہ کے مخالف ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اب امریکہ کو توانائی کے شعبے میں آزاد ہونے کے لیئے کوششیں تیز کرنا ہوں گی، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عام صارفین پیٹرول کی زیادہ قیمت ادا کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تیل کی اوپر چڑھتی ہوئی قیمتیں ایک ایسا چھپا ہوا ٹیکس ہے جس سے عوام کو تکلیف ہوتی ہے۔

امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے فیڈرل ٹیکس کمیشن سے کہا ہے کہ وہ انکوائری کرے کہ کہیں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیچھے مارکیٹ کی کارستانی تو نہیں۔

اسی بارے میں
امریکہ اور تیل کی سیاست
10 March, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد