BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 10 March, 2006, 14:18 GMT 19:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکہ اور تیل کی سیاست

کتاب
عراق پرحملے سےامریکہ مشرق وسطی کے تیل پر اپنا کنٹرول رکھنا چاہتا تھا
ناروے کے پروفیسر آسٹین نورنگ اپنی کتاب ’ کروڈ پاور‘ لکھنے کا مقصد یہ بتاتے ہیں کہ اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ تیل (پٹرولیم) کی عالمی منڈی میں کس طرح معاشی اور سیاسی عوامل ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

آسٹین نورنگ مثالوں سے واضح کرتے ہیں کہ گزشتہ پچاس برسوں میں امریکی پالیسی میں تیل، حکومتوں کی تبدیلی اور اسرائیل کا تحفظ بنیادی موضوعات رہے ہیں اور عراق کی موجودہ جنگ بھی اسی بنا پر لڑی جارہی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ امریکہ ایک نیا سامراج (امپائر) بننے کی راہ پر گامزن ہے جس کے لیے مشرق وسطی پر کنٹرول لازمی ہے۔ اس مقصد کے لیے عراق پر قبضے کی اہمیت بنیادی ہے اور ایران اس راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ امریکہ دنیا میں سب سے زیادہ تیل استعمال اور درآمد کرنے والا ملک ہے۔ اس نے سنہ دو ہزار تین میں ایک سو دس ارب ڈالر کا تیل درآمد کیا۔

مصنف امریکہ کی سنہ دو ہزار ایک میں جاری ہونے والی نیشنل انرجی پالیسی سے اقتباس پیش کرتے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ توانائی (انرجی) کا تحفظ امریکی کی خارجہ پالیسی اور تجارت کی لازمی ترجیح ہے۔

دوسری طرف، عراق ایسا ملک ہے جہاں تیل کے دوسرے بڑے عالمی ذخائر ہیں۔ ان کے مطابق آنے والے دنوں میں عراق سے روزانہ چھ سے آٹھ ملین بیرل تیل روزانہ نکالا جاسکتا ہے۔ عراقی تیل میں کشش یہ ہے کہ اس کے ذخائر سے تیل کم خرچ پر نکالا جاسکتا ہے اور یہ جگہ عالمی منڈی سے وسط ایشیا کی نسبت بہت قریب ہے۔

 پروفیسر کا کہنا ہے کہ امریکہ دنیا میں سب سے زیادہ تیل استعمال اور درآمد کرنے والا ملک ہے۔ اس نے سنہ دو ہزار تین میں ایک سو دس ارب ڈالر کا تیل درآمد کیا

وہ امریکہ کے سابق ٹرژری سیکرٹری پال او نیل کا حوالہ دیتے ہیں جنہوں نے انکشاف کیا تھا کہ بش جونئیر کی حکومت اپنے ابتدائی دنوں ہی میں عراق پر قبضہ کا منصوبہ بنارہی تھی اور ستمبر گیارہ کے واقعات نے اسے بہانہ فراہم کردیا۔

وہ لکھتے ہیں کہ عراق اور سعودی عرب کے درمیان سنہ دو ہزار تین میں شروع ہونے والی جنگ سے پہلے خفیہ طور پر مفاہمت کی بات چیت چل رہی تھی۔ان کے بقول اگر یہ مفاہمت ہوجاتی تو عراق مشرق وسطی سے دوبارہ جڑ جاتا اور خطہ میں امریکہ کے اثر و رسوخ میں کمی آجاتی۔

آسٹین نورنگ کہتے ہیں کہ ایک مضبوط، قوم پرست اور بااثر عراقی ریاست امریکہ کے تیل کے مفادات کے لیے خطرہ تھی۔ اسرائیل کو بھی مشرقی سرحد پر فوجی اعتبار سے مضبوط عراق سے خطرہ ہوسکتا تھا خاص طور سے اگر عراق اور شام اتحاد کرلیتے۔

وہ کہتے ہیں کہ اگر امریکہ کا مقصد عراق پر قبضہ کرنے سے یہ تھا کہ تیل کی خودمختار اپ سٹریم کمپنیوں اور سروسز فرموں کے فائدہ کے لیے تیل کی قیمت میں اضافہ ہوجائے تو یہ مقصد ضرور پورا ہوا ہے اور یہ کمپنیاں صدر بش اور نائب صدر ڈک چینی کا حلقہ انتخاب ہیں۔

مصنف کا کہنا ہے کہ ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ امریکہ کا مقصد عراق کی ریاست کو تباہ کرنا تھا تاکہ ملک کو اپنے ماتحت کرکے اگلی کئی دہائیوں تک وہاں اپنی فوج تعینات رکھے۔ اس طرح امریکہ مشرق وسطی کے تیل پر کنٹرول رکھے گا اور دنیا پر امریکہ کا غلبہ رہے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ عراق میں بڑے امریکی فوجی اڈوں کی تعمیر سے اس خیال کو تقویت ملتی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ مشرق وسطی کو اپنے قابومیں رکھنا امریکہ کا طویل مدتی منصوبہ ہے کیونکہ امریکہ کے لیے ایک سامراجی ملک ہونے کے ناطے ضروری ہے کہ دوسرے ملکوں کی بچتیں اس کے تصرف میں آئیں اور تیل کی قیمت امریکی ڈالر کے سوا اور کسی کرنسی میں متعین نہ ہو۔

مصنف کا موقف ہے کہ امریکہ کا مفاد اس میں ہے کہ مشرق وسطی میں اس کی ایک بغل بچہ ریاست ہو جیسے اسلامی انقلاب سے پہلے ایران تھا۔ اس مقصد کے لیے عراق پر قبضہ کیا گیا کہ ایک ایسی ریاست وجود میں لائی جائے جو تیل برآمد کرتی ہو، قابل اعتماد فوجی اتحادی ہو اور امریکہ کے ہتھیاروں اور دوسرے ساز و سامان کی منڈی ہو۔

عراق کی جنگ کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے

مصنف کا خیال ہے کہ عراق کا چھوٹی ریاستوں میں تقسیم ہوجانا اسرائیل کے سلامتی کے مفادات اور امریکہ کے تیل کے مفادات کو پورا کرتا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسرائیل کی نظریں بھی عراق میں کردوں کے علاقہ میں کرکک کے تیل کے ذخائر پر لگی ہوئی ہیں۔

مصنف کا موقف ہے کہ عراق اگر امریکی پالیسی میں بنیادی حیثیت کا حامل ہے تو ایران اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے کیونکہ ایران کی حکومت امریکہ کے تیل کے مفادات اوراسرائیل کے تحفظ کےلیے خطرہ ہے اس لیے مصنف کے خیال میں ایران پر ہوائی حملے کیے جاسکتے ہیں اور خطرہ یہ بھی ہے کہ ایران ان کا جواب دے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ کامیابی کےلیے ضروری ہے کہ پہل کرنے کی صلاحیت پر امریکہ کی اجارہ داری ہو لیکن ایران کے نیوکلیائی پروگرام کی وجہ سے ایسا نہیں ہوسکا۔

وہ کہتے ہیں کہ عراق کی جنگ کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں جو اضافہ ہوا ہے اس سے ایران کی آمدن میں بھی اضافہ ہوا ہے جس سے وہاں قدامت پسند اسلام پسندوں کی طاقت بڑھ گئی ہے۔

مصنف کے خیال میں امریکہ کے پاس حملے میں پہل کرنے کی صلاحیت تو ہے لیکن ایران کے پاس بھی یہ صلاحیت ہے جس کی وجہ سے مشرق وسطی میں ایک نہ ختم ہونے والی جنگ شروع ہوسکتی ہے۔

آسٹین نورنگ کہتے ہیں کہ امریکہ کی عراق کی جنگ ایک طرح سے برطانیہ اور فرانس کے پہلی جنگ عظیم کے دروان میں عرب دنیا کو تقسیم کرنے اور اس کے تیل پر کنٹرول کرنے کے منصوبوں کا تسلسل ہے۔

 مصنف کا موقف ہے کہ امریکہ کا مفاد اس میں ہے کہ مشرق وسطی میں اس کی ایک بغل بچہ ریاست ہو جیسے اسلامی انقلاب سے پہلے ایران تھا۔

ان کے بقول اگر امریکہ عراق پر قبضہ میں کامیاب ہوگیا تو حکومتوں میں تبدیلی کے لیے شام اور ایران اگلے نشانے ہوں گے اور شاید سعودی عرب بھی۔

آسٹین نورنگ کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ کو شکست ہوئی تو نہ صرف امریکہ کا وقار اور اثر و رسوخ اور سامراجی منصوبہ ختم ہوجائے گا بلکہ امریکی ڈالر کے ساتھ ساتھ یورو اور چین کی کرنسی یوآن بھی عالمی تجارت اور تیل کی تجارت کی کرنسیاں بن جائیں گی۔

مصنف نے ڈھائی سو سے زیادہ صفحوں پر مشتمل یہ کتاب سنہ دو ہزار ایک سے پہلے مکمل کی تھی اور اس کا پہلا ایڈیشن سنہ دو ہزار دومیں شائع ہوا تھا۔ اب سنہ دو ہزار پانچ میں چھپنے والے نئے ایڈیشن میں نئے واقعات کی روشنی میں ایک باب کا اضافہ کیا گیا ہے۔

سمندر میں تیل کی تلاشتیل پر انحصار
تیل کی مانگ بڑھ جائے گی اور قیمتیں بھی
بُشمہنگے تیل سے پریشان
مہنگا تیل امریکی حکومت کے لئے خطرہ ؟
تیلایران جوہری معاملہ
تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے کا خدشہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد