امریکہ تیل کا انحصار ختم کر سکے گا؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر بش نے اپنے سٹیٹ آف یونین خطاب میں کہا ہے کہ امریکہ کو ’تیل کا نشہ‘ ہے جو مستقبل میں ملک کی معاشی نمو پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔ اس خطاب کے ساتھ ہی بش نے توانائی سے متعلق ایک پروگرام کا افتتاح کیا ہے جس کا مقصد صاف توانائی کی ٹیکنالوجی بنانا ہے۔ صدر بش نے کہا کہ وہ مشرق وسطٰی کے تیل پر انحصار ختم کرنا چاہتے ہیں۔ بش نے دو چیزوں پر زور دیا، ایک بجلی کی پیداوار اور دوسرے ٹرانسپورٹ کے لیے متبادل ایندھن۔ امریکہ کے پاس توانائی کا ایک بڑا ذریعہ کوئلے کے ذخائر کی شکل میں موجود ہے۔ دنیا کا ایک چوتھائی کوئلے کا ذخیرہ امریکہ کی زمین میں موجود ہے۔ 2004 میں امریکہ نے 3940 ٹیرا واٹ آورز بجلی پیدا کی جس میں سے نصف کوئلے کے ذخائر سے پیدا کی گئی تھی۔ پیشن گوئی ہے کہ یہ پیداوار 2030 تک 5840 ٹیراواٹ سے تجاوز کرجائے گی۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ کوئلے سے توانائی کی پیداوار ماحول کو آلودہ کرتی ہے۔ اور اسی مسئلے کے حل کے لیے یہ ریسرچ پروگرام شروع کیا گیا ہے۔ امریکہ ایک ایسا پاور سٹیشن بنانے جارہا ہے جو کوئلے کو گیسیفائی کرکے ہائیڈروجن پیدا کرے گا جس سے بجلی اور ٹرانسپورٹ فیول بنایا جائے گا جبکہ اس سے پیدا ہونے والی آلودگی کو سو فیصد ختم کردیا جائے گا۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ صفر آلودگی کی لایکنالوجی بنانا اتنا آسان نہیں ہے اور اس میں کافی وقت لگے گا۔ امریکہ کے ماحولیات کے ٹرسٹ کے صدر فل کلیپ کا کہنا ہے کہ امریکی صدر غلط بیانی کر رہے ہیں۔ فی الوقت چین کوئلے سے توانائی پیدا کرنے کا کام کر رہا ہے اور اس سے ماحولیات پر پڑنے والے منفی اثرات اپنی جگہ موجود ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اگلے تیس سال تک تو یہ پاور سٹیشن تبدیل کیے جانے کا کوئی امکان نہیں۔ تاہم صدر بش کا اصرار تھا کہ مشرق وسطٰی پر انحصار کرنے کے لیے متبادل توانائی کی پیداوار ضروری ہے۔ وائٹ ہاؤس کی پیشن گوئی ہے کہ تیل پر انحصار ختم کرکے متبادل توانائی کی تیاری میں پندرہ سال کا عرصہ لگے گا۔ | اسی بارے میں تیل پرانحصار ختم کرناہوگا: صدربش01 February, 2006 | آس پاس عراقی تیل کے وزیر بحرالعلوم پر حملہ03 October, 2005 | آس پاس تیل برائے خوراک: سربراہ مستعفی08 August, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||