حملے کرنے کا حق محفوظ: امریکہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جارج بش نے امریکہ کی قومی سکیورٹی کے لیے ایک نئے لائحۂ عمل کا اعلان کیا ہے جس میں امریکی مفاد کے لیے سب سے بڑے خطرے کے طور پر ایران کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس دستاویز میں کسی ملک پر اس کے حملہ کرنے سے پہلے حملہ کرنے کا حق محفوظ رکھا گیا ہے۔ اس پالیسی میں ایران کے ایٹمی پروگرام اور شدت پسند تنظیموں کی اس کی مبینہ حمایت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ یہ سن دوہزار تین میں عراق پر حملوں کے بعد سے امریکی سکیورٹی کے بارے میں سب سے اہم پالیسی ہے۔ نئے لائحۂ عمل کے تحت کہا گیا ہے کہ امریکہ ان گروہوں پر حملے کرنے سے نہیں گریز نہیں کرے گا جن کے پاس ایٹمی اور حیاتیاتی ہتھیار ہیں۔ اس کے تحت امریکہ ان حکومتوں پر کارروائی سے بھی نہیں کترائے گا جنہیں وہ ’بدنیت‘ اور اپنا مخالف تصور کرتا ہے۔ تاہم اس لائحۂ عمل میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ امریکہ سفارت کاری کے ذریعے جمہوریت کے فروغ کا خواہاں ہے۔ اس میں برڈ فلو، ایڈز، ماحولیات کے مسائل سے نمٹنے کے بارے میں بھی بات کی گئی ہے۔ جمعرات کو امریکی قومی سلامتی کے مشیر اسٹیفن ہیڈلی نئے لائحۂ عمل کا اجراء کریں گے۔ اس لائحۂ عمل کے چند اہم نکات حسب ذیل ہیں۔
٭ نئے لائحۂ عمل کی دستاویز میں روس اور چین میں جمہوری اصلاحات کے فقدان پر تنقید کی گئی ہے۔ ٭ وینیزوئیلا کے صدر ہوگو شاویز کو ’ڈیماگوگ‘ قرار دیا گیا ہے جس کا معنی کچھ یوں ہوا: لوگوں کو نظریاتی طور پر بھٹکانے والا رہنما۔ شاویز پر تنقید کی گئی ہے کہ وہ خطے میں عدم استحکام پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ ٭ فلسطینی ریڈیکل تنظیم حماس سے اپیل کی گئی ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرے، غیرمسلح ہو اور تشدد کا راستہ ترک کرے۔ ٭ نئی دستاویز میں کچھ ’آمرانہ‘ ممالک کی نشاندہی کی گئی ہے جن کے نام ہیں: شمالی کوریا، ایران، شام، کیوبا، بلاروس، برما یعنی میانمار اور زِمبابوے۔ انچاس صفحات پر مبنی اس دستاویز میں کہا گیا ہے کہ امریکہ ’ہر ملک اور معاشرے میں جمہوری اداروں اور تحریکوں کی تلاش کرے گا اور ان کی حمایت کرے گا، جس کا حتمی مقصد ہماری دنیا سے ظلم کا خاتمہ ہوگا۔‘ دستاویز کے مطابق یہی مقاصد ایران کے ایٹمی پروگرام پر امریکی پالیسی کا محرک ہیں۔ نئے لائحۂ عمل میں عرف عام میں جانے جانے والے ’بش نظریے‘ میں تبدیلی کی بات نہیں کی گئی ہے جس کے تحت امریکہ کسی دوسرے ملک پر اس کی جانب سے حملے کرنے کا انتظار کیے بغیر حملہ کرنے کا حق اپنا رکھا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||