BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 28 April, 2006, 03:07 GMT 08:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاک امریکہ: پہلا دور بے نتیجہ

واشنگٹن
دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی جنگ میں پاکستان اس کا سب سے برا حلیف ہے
واشنگٹن میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان دو روزہ مذاکرات میں امریکہ سے جوہری شعبے میں بھارت کی طرز پر پاکستان کے ساتھ بھی تعاون کرنے کے پاکستانی مطالبے پر کوئی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی ہے۔

پاکستان کے سیکریٹری خارجہ ریاض محمد خان اور امریکی نائب وزیر خارجہ نکولس برنز کے درمیان ہونے والے ان دو روزہ مذاکرات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں پاکستانی سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ پاکستان کو دفاعی اور توانائی دونوں شعبوں میں جوہری ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے۔

ریاض محمد خان نے کہا کہ پاکستان ان دونوں شعبوں کے لیے جوہری ٹیکنالوجی کے حصول کے لیئے کوششیں جاری رکھے گا۔

صدر بش نے اپنے انڈیا کے دورے کے دوران انڈیا کو جوہری شعبے میں تعاون کی پیش کش کی تھی جس کے بعد پاکستان نے بھی امریکہ سے جوہری شعبے میں اس نوعیت کا تعاون کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

اسی پریس کانفرنس میں امریکی نائب وزیر خارجہ نے ایک مرتبہ پھر امریکہ کا موقف دہرایا کہ پاکستان اور بھارت دونوں ہی امریکہ کے دوست ہیں اور امریکہ دونوں کے تعلقات کا موازنہ نہیں کرتا۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو امریکہ کا سب سے اہم حلیف قرار دیا۔

ایران کے جوہری پروگرام کا معاملہ
 پاکستان خطے میں جوہری ہتھیاروں کا پھیلاؤ نہیں چاہتا لیکن وہ ایران کے خلاف طاقت کے استعمال کے حق میں نہیں۔
پاکستانی سیکرٹری خارجہ

نکولس برنز نے اصرار کیا کہ امریکہ، بھارت کو صرف غیر فوجی مقاصد اور توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے جوہری ایندھن فراہم کرے گا جس پر پاکستان کو کوئی تشویش نہیں ہونی چاہیے۔ امریکہ اور بھارت کے درمیان جوہری معاہدے کو ابھی امریکی کانگریس کی منظوری حاصل نہیں ہوئی۔

ایف سولہ طیاروں پر بات کرتے ہوئے پاکستانی سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ پچھلے سال کے زلزلے کے بعد پاکستان مالی مشکلات کا شکار ہو گیا ہے اس وجہ سے اس نے اپنے ایف سولہ طیاروں کی خریداری میں کمی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ طیاروں کی تعداد میں بھی کمی کی جائے گی اور کچھ نئے اور کچھ پرانے طیارے خریدے جائیں گے۔

ایران پر بات کرتے ہوئے نکولس برنز نے کہا کہ حال ہی میں ایرانی صدر احمدی نژاد نے سوڈان کو جوہری ٹیکنالوجی فراہم کرنے کے بارے میں جو بیان دیا ہے وہ بے حد غیر ذمہ دارانہ ہے اور اب عالمی برادری کو ایران کے خلاف کوئی قدم اٹھانا ہوگا۔

پاکستانی سیکرٹری خارجہ نے یہ واضح کیا کہ اگرچہ پاکستان خطے میں جوہری ہتھیاروں کا پھیلاؤ نہیں چاہتا لیکن وہ ایران کے خلاف طاقت کے استعمال کے حق میں نہیں۔

انہوں نے بہت واضح الفاظ میں کہا کہ ’ دنیا میں حکومتوں کو تبدیل کرنے کے کاروبار سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔‘

اس سوال کے جواب میں کہ کیا پاکستان نے امریکہ کو یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ایران کو ایسی جوہری ٹیکنالوجی فراہم نہیں کرے گا جو پرامن مقاصد کے ساتھ ساتھ فوجی مقاصد کے لیے بھی استعمال ہو سکتی ہو ریاض محمد خان نے کہا کہ پاکستان کے پاس ایسی کوئی ٹیکنالوجی نہیں۔

پاکستان نے ایف سولہ طیاروں کی خریداری میں کمی کا فیصلہ کیا ہے

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے جوہری توانائی کی ایکسپورٹ کے لیے نئے قوانین بنائے ہیں جو نیوکلیر سپلائرز گروپ کے ضابطوں کے عین مطابق ہیں۔

ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یورپ اور دنیا کے دیگر ممالک کے بھی ایران سے ایسے معاہدے ہیں جن کے تحت ایران انہیں گیس فراہم کرتا ہے۔

پریس کانفرنس میں سیکرٹری خارجہ ریاض محمد خان اور امریکی نائب وزیر خارجہ نکولس برنز کے علاوہ امریکہ میں پاکستانی سفیر جہانگیر کرامت، پاکستان میں امریکی سفیر رائن کراکر اور دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم بھی شامل تھیں۔

امریکی صدر جارج بش نے اپنے پاکستان کے دورے میں یہ سٹریٹیجک مذاکرات شروع کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ یہ اس سلسلے کی پہلی کڑی تھی۔ دونوں حکومتوں کے درمیان یہ مذاکرات جاری رہیں گے اور ان میں جوہری عدم پھیلاؤ اور دفاعی معاملات کے علاوہ جمہوریت، توانائی، تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی اور تجارت جیسے معاملات پر بات چیت ہوگی۔

اگلے ہفتے واشنگٹن میں دونوں ملکوں کے دفاعی مشاورتی گروپ کا اجلاس ہوگا۔ اسکے علاوہ ان مذاکرات کو جاری رکھنے کے لیے ایک امریکی وفد جلد ہی پاکستان کا دورہ کرے گا۔

اسی بارے میں
کشمیر:’امریکہ مدد کرے‘
13 February, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد