’امریکہ بھارت معاہدہ ایک دھچکہ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے خارجہ امور کے ماہرین اور مبصرین نے امریکہ اور بھارت کے درمیان ’سویلین نیوکلیئر‘ تعاون کے معاہدے کو پاکستان کے لیے ایک دھچکہ قرار دیا ہے۔ سابق سفیر اور تجزیہ کار نیاز اے نائیک نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس معاہدے سے نہ صرف پاکستان بلکہ جوہری عدم پھیلاؤ کے عالمی گروپ کے لیے یہ ایک بڑا دھچکہ ثابت ہوگا‘۔ انہوں نے کہا کہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے ’این پی ٹی‘ کا بھارت دستخطی ملک نہیں ہے اور اس کے باوجود اس معاہدے سے ایسا دکھائی دے رہا ہے کہ امریکہ نے بھارت کو جوہری کلب کا ’ڈی فیکٹو‘ رکن تسلیم کرلیا ہے۔ سابق وزیر خارجہ سرتاج عزیز کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ نے پاکستان کے ساتھ بھی ایسا تعاون نہیں کیا تو پاکستان کے لیے یہ معاہدہ بڑا تشویش کا سبب بنے گا۔انہوں نے کہا ’یہ معاہدہ جوہری عدم پھیلاؤ کی عالمی رجیم کے بنیادی اصولوں اور روح کے خلاف ہے اور اب بھارت ایک لحاظ سے جوہری کلب کا ڈی فیکٹو رکن بن گیا ہے‘۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ کی جانب سے یہ کہنا کہ پاکستان کے جوہری سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان جوہری پھیلاؤ میں ملوث ہے اس لیے ان سے اس طرح کا تعاون نہیں کیا جاسکتا، درست نہیں ہے کیونکہ بھارت کے بھی دو سائنسدان ایران کو جوہری پروگرام میں مدد کرتے رہے ہیں۔ سابق پاکستانی سفیر نیاز اے نائک نے اپنے تبصرے میں کہا کہ ’جس طرح امریکی صدر نے بھارت کی غیر متوازن انداز میں تعریفیں کیں ایسا انہوں نے اپنے سفارتی کیریئر میں کبھی نہیں دیکھا‘۔ ان کے مطابق بھارت میں سترہ بغاوتیں چل رہی ہیں اور اڑیسہ سمیت کئی ریاستوں میں شدید غربت ہے لیکن اس بارے میں انہوں نے کوئی تذکرہ تک نہیں کیا۔ نیاز اے نائیک نے کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ جب یہ معاہدہ کانگریس میں پیش ہوگا تو اس پر حزب مخالف کے ساتھ ساتھ ریبپلکن پارٹی کے لوگ بھی اعتراضات اٹھائیں گے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس کے دور رس عالمی اثرات ہوں گے۔ سابق سیکریٹری خارجہ ریاض کھوکھر نے بھی امریکہ اور بھارت کے درمیان جوہری تعاون کے معاہدے کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا اور کہا کہ پاکستان بھی ایسے تعاون کا خواہاں ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس بارے میں ابھی سمجھوتہ تو ممکن نہیں لیکن بات چیت کا عمل شروع ہوگا۔ ان کے مطابق امریکی صدر بھارت کے اس معاہدے کے بدلے فی الوقت تجارتی مراعات کا پیکج دے سکتے ہیں۔ ایک اور سابق سفیر ڈاکٹر تنویر احمد خان کا کہنا ہے کہ امریکہ اور بھارت کے درمیان جوہری معاہدہ دونوں ممالک کے مفادات کے مطابق ہے اور پاکستان کو اسے سمجھنا چاہیے۔ ان کے مطابق اس بارے میں تنقید اور اعتراضات سے پاکستان تنہا ہوسکتا ہے۔ | اسی بارے میں ’جوہری معاہدہ اسلحہ کیلیے نہیں‘22 February, 2006 | انڈیا ہندوستان کی جوہری تنہائی کاخاتمہ02 March, 2006 | انڈیا انڈیا، امریکہ دنیا بدل سکتے ہیں: بش03 March, 2006 | انڈیا انڈیا،امریکہ کی جوہری شراکت03 March, 2006 | انڈیا جوہری معاہدے کا خیر مقدم03 March, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||