BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 04 March, 2006, 02:47 GMT 07:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’امریکہ بھارت معاہدہ ایک دھچکہ‘

جارج بُش
ایسا دکھائی دے رہا ہے کہ امریکہ نے بھارت کو جوہری کلب کا ’ڈی فیکٹو‘ رکن تسلیم کرلیا ہے
پاکستان کے خارجہ امور کے ماہرین اور مبصرین نے امریکہ اور بھارت کے درمیان ’سویلین نیوکلیئر‘ تعاون کے معاہدے کو پاکستان کے لیے ایک دھچکہ قرار دیا ہے۔

سابق سفیر اور تجزیہ کار نیاز اے نائیک نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس معاہدے سے نہ صرف پاکستان بلکہ جوہری عدم پھیلاؤ کے عالمی گروپ کے لیے یہ ایک بڑا دھچکہ ثابت ہوگا‘۔

انہوں نے کہا کہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے ’این پی ٹی‘ کا بھارت دستخطی ملک نہیں ہے اور اس کے باوجود اس معاہدے سے ایسا دکھائی دے رہا ہے کہ امریکہ نے بھارت کو جوہری کلب کا ’ڈی فیکٹو‘ رکن تسلیم کرلیا ہے۔

سابق وزیر خارجہ سرتاج عزیز کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ نے پاکستان کے ساتھ بھی ایسا تعاون نہیں کیا تو پاکستان کے لیے یہ معاہدہ بڑا تشویش کا سبب بنے گا۔انہوں نے کہا ’یہ معاہدہ جوہری عدم پھیلاؤ کی عالمی رجیم کے بنیادی اصولوں اور روح کے خلاف ہے اور اب بھارت ایک لحاظ سے جوہری کلب کا ڈی فیکٹو رکن بن گیا ہے‘۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ کی جانب سے یہ کہنا کہ پاکستان کے جوہری سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان جوہری پھیلاؤ میں ملوث ہے اس لیے ان سے اس طرح کا تعاون نہیں کیا جاسکتا، درست نہیں ہے کیونکہ بھارت کے بھی دو سائنسدان ایران کو جوہری پروگرام میں مدد کرتے رہے ہیں۔

سابق پاکستانی سفیر نیاز اے نائک نے اپنے تبصرے میں کہا کہ ’جس طرح امریکی صدر نے بھارت کی غیر متوازن انداز میں تعریفیں کیں ایسا انہوں نے اپنے سفارتی کیریئر میں کبھی نہیں دیکھا‘۔

ان کے مطابق بھارت میں سترہ بغاوتیں چل رہی ہیں اور اڑیسہ سمیت کئی ریاستوں میں شدید غربت ہے لیکن اس بارے میں انہوں نے کوئی تذکرہ تک نہیں کیا۔ نیاز اے نائیک نے کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ جب یہ معاہدہ کانگریس میں پیش ہوگا تو اس پر حزب مخالف کے ساتھ ساتھ ریبپلکن پارٹی کے لوگ بھی اعتراضات اٹھائیں گے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس کے دور رس عالمی اثرات ہوں گے۔

سابق سیکریٹری خارجہ ریاض کھوکھر نے بھی امریکہ اور بھارت کے درمیان جوہری تعاون کے معاہدے کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا اور کہا کہ پاکستان بھی ایسے تعاون کا خواہاں ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس بارے میں ابھی سمجھوتہ تو ممکن نہیں لیکن بات چیت کا عمل شروع ہوگا۔ ان کے مطابق امریکی صدر بھارت کے اس معاہدے کے بدلے فی الوقت تجارتی مراعات کا پیکج دے سکتے ہیں۔

ایک اور سابق سفیر ڈاکٹر تنویر احمد خان کا کہنا ہے کہ امریکہ اور بھارت کے درمیان جوہری معاہدہ دونوں ممالک کے مفادات کے مطابق ہے اور پاکستان کو اسے سمجھنا چاہیے۔ ان کے مطابق اس بارے میں تنقید اور اعتراضات سے پاکستان تنہا ہوسکتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد