جوہری معاہدے کا خیر مقدم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجینسی یعنی آئی اے ای اے نے ہند امریکہ جوہری معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے- عالمی نگراں ادارے کے سربراہ محمد البرادی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہندوستان کو نیوکلیائی ٹیکنالوجی اور ایندھن سمیت توانائی کی سخت ضرورت ہے اور اس معاہدے سے اس کی یہ ضرورت پوری ہوسکے گی۔ اس سے ہندوستان ایک پارٹنر کے طور پر نیو کلیائی عدم توسیع نظام کے اور قریب آئے گا- ’یہ معاہدہ عدم توسیع کے نظام کو مضبوط کرنے، جوہری دہشت گردی کا مقابلہ کرنے اور جوہری تنصیبات کو محفوظ کرنے کی کوششوں کے لیئے بہت بر وقت اور سنگ میل ثابت ہو گا۔‘ اس جوہری معاہدے پر ہندوستان اور امریکہ نے جمعرات کو دستخط کیے ہیں۔اس معاہدے کے نفاذ کے لیئے امریکی کانگریس کی منظوری ضروری ہو گی۔ معاہدے کے تحت ہندوستان کو اپنی جوہری تنصیبات کی نشاندہی فوجی اور غیر فوجی تنصیبات کے طور پر کرنا ہے ۔ غیر فوجی تنصیبات بین الاقوامی ایٹمی توانائی کے معائنے کے دائرے میں آ جائیں گیں- ڈاکٹر البرادی نے اس بیان میں مزید کہا ہے کہ اس معاہدے کے تحت ہندوستان کو جوہری ٹیکنالوجی اور ایندھن تک قابل اعتبار رسائی حاصل ہو جائے گی۔ اس سے جوہری تنصیبات کی نگرانی کے نظام کو بین اقوامی سطح پر تقویت حاصل ہو گی۔ انھوں نے کہا ’ اس معاہدے سے ہندوستان اور عالمی برادری دونوں کو ہی فائدہ پہنچے گا‘۔ | اسی بارے میں ہندوستان کی جوہری تنہائی کاخاتمہ02 March, 2006 | انڈیا فرانس اور بھارت کا جوہری معاہدہ20 February, 2006 | انڈیا انڈیا: 10 فیصد شرحِ نمو کا تخمینہ28 February, 2006 | انڈیا ’جوہری معاہدہ اسلحہ کیلیے نہیں‘22 February, 2006 | انڈیا ’فیصلہ امریکہ نہیں ہم کریں گے‘27 February, 2006 | انڈیا ہندوستان کا جوہری پروگرام 01 March, 2006 | انڈیا انڈیا،امریکہ ’تاریخی‘ معاہدہ02 March, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||