BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انڈیا: 10 فیصد شرحِ نمو کا تخمینہ

بھارتی وزیرِ خزانہ
بھارتی وزیرِ خزانہ بجٹ سیشن کے دوران
انڈیا آئندہ مالی برسوں میں 10 فی صد سے زیادہ کی رفتار سے معاشی ترقی حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔

انڈین وزیرِ خزانہ پی چدمبرم نے پارلیمان میں سنہ 07-2006 کا بجٹ پیش کرتے ہوئے ساڑھے پانچ لاکھ کروڑ روپے اخراجات کا تخمینہ پیش کیا جس میں سے تقریبا ساڑھے چار لاکھ کروڑ روپے سرکاری آمدنی سے حاصل کیے جائيں گے۔

وزیرِخزانہ نے اپنی تقریر میں بتایا کہ براہِ راست اور بالواسطہ ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی آمدنی ميں زبردست ا‌ضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کسٹمزاور ایکسائز ڈیوٹیوں میں ذبردست کٹوتی کا بھی اعلان کیا۔

انڈیا نے اپنے دفاعی بجٹ میں بھی سات اعشاریہ دو فیصد کا اضافہ کیا ہے اور سنہ 07۔2006 کے دوران بھارت اس مد میں آٹھ سو نوے ارب روپے خرچ کرے گا۔

انڈین وزیرِخزانہ پی چدمبرم نے اپنی بجٹ تقریر کے دوران کہا کہ ’ملک کی دفاعی افواج کو جدید بنانے کے عمل کو مدِ نظر رکھتے ہوئے میں دفاعی بجٹ 830 ارب روپے سے بڑھا کر 890 ارب روپے کرنے کی تجویز دیتا ہوں‘۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ’ اس رقم میں سے 374 ارب روپے بنیادی اخراجات پر خرچ ہوں گے‘۔ دفاعی بجٹ میں اس اضافے کے بعد دفاع پر خرچ ہونے والے رقم بھارتی ’جی ڈی پی‘ کے دو اعشاریہ چار فیصد کے برابر ہو گئی ہے۔

نئے بجٹ میں تعلیم کے شعبے پر خرچ کی جانے والی رقم میں اکتیس فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے اور اس کے لیئے 241 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔اسی طرح صحت کے مد میں خرچ کی جانے والی رقم میں بائیس فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے اور اب رقم بڑھ کر120 ارب روپے ہوگئی ہے۔

شاہراہوں کی تعمیر کے لیے تقریبا سو ارب روپے رکھےگئے ہیں

اس بجٹ میں کھانے پینے کی چیزوں پر ڈیوٹی کم کر دی گئي ہے اور کمپیوٹر پر بھی ایکسائز ڈیوٹی میں کمی کی گئی ہے۔ ذاتی اور کارپوریٹ ٹیکس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے اور کوئی نیا ٹیکس بھی نہیں لگایا گيا ہے تاہم بینکوں سے 50 ہزار روپے سے زیادہ نقد نکالنے پر لگایا گیا سرچارج نہیں ہٹایا گیا ہے۔

بجٹ میں دیہی روزگار منصوبے پرخصوصی توجہ کے تحت اس کے لیے ایک ہزار چودہ سو کروڑ روپے مختص کیےگئے ہیں۔ شاہراہوں کی تعمیر کے لیے تقریبا سو ارب روپے رکھےگئے ہیں۔

سروس ٹیکس میں دو فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے اور اب یہ ٹیکس دس فیصد سے بڑھا کر بارہ فیصد کر دیا گیا ہے۔ کسانوں کے لیے قرضوں کی اسکیم آسان بنائی گئی ہے۔ سٹیل، پلاسٹک اور لائف سیونگ دواؤں کی درآمدات کی کسٹمز ڈیوٹی میں کمی کی گئی ہے لیکن بناسپتی پروڈکٹ پر ڈیوٹی بڑھا دی گئی ہے۔

اس بجٹ کے تحت پلاسٹک اشیاء چھوٹی کاریں اور آئسکریم سستی ہوئیں جبکہ سگریٹ اور تمباکو کی اشیاء کی قیمت میں اضافہ ہوگا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد