BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 24 February, 2006, 15:43 GMT 20:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ریل سےجائیں،جہاز سےنہیں: ریل بجٹ

ریلوے کے وزیر لالو پرساد یادو اپنے بجٹ کے ساتھ
ریلوے کے وزیر لالو پرساد یادو اپنے بجٹ کے ساتھ
ہندوستان میں رواں سال کے ریل بجٹ میں مسافروں کے کرائے میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ہے۔ ریلوے کے وزیر لالو پرساد یادو نے بجٹ پیش کرتے ہوئے ایئر کنڈیشنڈ کرایوں میں بھی کمی کرنے کااعلان کیا ہے۔

ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ مستقل تین برس سے مسافروں کے کرائے میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ہے۔

لالو پرساد یادو نے کہا کہ رواں مالی سال کے اختتام پر ریلوے سے 11280 کروڑ روپے کا فائدہ ہونے کی امید ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ تصور غلط ہے کہ کرایوں میں اضافے کے بغیر فائدہ حاصل نہیں ہوسکتا۔‘

آئندہ مالی سال میں تقریبا 58000 کروڑ روپے کی آمدنی کا تخمینہ ہے جبکہ فائدے کا اندازہ 14000 کروڑ لگایا گیا ہے۔

فرسٹ کلاس اے سی کرائے میں اٹھارہ فیصد اور سیکنڈ کلاس اے سی کرائے میں دس فیصد کی کمی کی گئی ہے۔ طویل مسافت کی ریل گاڑیوں کا اے سی کرایہ کافی مہنگا ہوگیا تھا اور بعض اوقات مسافروں کے لیے ہوائی جہاز سے سفر کرنا آسان ہوگیا تھا۔ اسی نکتہ کے پیش نظر وزارت ریل نے اے سی کے کرائے میں کمی کی ہے۔

لالو پرساد یادو نے اعلان کیا کہ مال بھاڑے میں بھی کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ہے اور اس شعبے میں اصلاح کا عمل جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ آٹھ علاقوں میں پانچ سو پچھپن کلو میٹر ریل لائن کی تعمیر بھی جلد ہی پوری کر لی جائیگی۔

انہوں نے نے بکرم گنج- ساسہ رام، مظفر پور- سیتا مڑھی، کیوجھار-دائتری، سکری-براؤل، ہتھوا بتھوا بازار، ادھم پور کٹوا جیسے مختلف علاقوں کے درمیان پچاس نئی ٹرینیں چلانے کا بھی اعلان کیا ہے۔

لالو پرساد نے غریبوں کے لیے ایک خاص ایئر کنڈیشن ریل گاڑی ’غریب رتھ‘ چلانے کا بھی اعلان کیا ہے اور اس کا کرایہ دیگر اے سی ریل گاڑیوں سے بھی کم ہوگا۔ بجٹ پیش کرتے وقت اپوزیشن جماعتوں نے لالو پرساد یادو کے خلاف خوب شور شرابا کیا لیکن لالو پرساد نے اپنی تقریر بند نہیں کی۔

اپنی بجٹ تقریر میں انہوں نے کہا کہ کچھ پریشانیاں تھیں لیکن سب کی کوششوں سے محکمۂ ریل اب پہلے سے کہیں بہتر پوزیشن میں ہے۔

وزیراعظم منوہن سنگھ سمیت کئی جماعتوں نے اس ریل بجٹ کی تعریف کی ہے لیکن اپوزیشن جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کا کہنا ہے کہ یہ بجٹ کھوکھلا ہے۔ جنتا دل یونائٹیڈ نے اس بجٹ کو بے سمت قرار دیا ہے۔ اکالی دل کو یہ شکایت ہے کہ پاکستان سے تجارت کے امکان کے باوجود پنجاب کا خاص خیال نہیں رکھا گیا ہے۔

اسی بارے میں
بھارت کا نیا ریل بجٹ
06 July, 2004 | انڈیا
ایشیائی ممالک کی ریل لائن
21 September, 2004 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد