فرسودہ ریلوے نظام کب بدلے گا؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
منگل کو ہونے والے تباہ کن ریل حادثے نے ایک بار پھر بھارتی ریلوے نظام کے حفاظتی انتظامات پر بہت سے سوال اٹھائے ہیں۔ بھارتی ریلوے ایک حکومتی ادارہ ہے جس کے ایک لاکھ کلومیٹر لمبے ٹریک پر ہر روز ایک کروڑ دس لاکھ افراد سفر کرتے ہیں۔ مسافروں کی اکثریت نچلے درجے کی ان بوگیوں میں سفر کرتی ہے جن میں سے زیادہ تر اپنی عمر پوری کر چکی ہیں۔ بھارتی ٹرینیں آج بھی زیادہ تر فرسودہ سگنل نظام کے تحت چلتی ہیں جسے ہاتھ سے چلایا جاتا ہے۔چنانچہ ناقدین کے خیال میں آئے دن حادثات کا رونما ہونا کوئی حیرت کی بات نہیں۔ بھارتی حکومت پر اس وقت ریلوے میں بھاری سرمایہ کاری کرنے اور حفاظتی انتظامات کو بہتر بنانے کے لیے بہت دباؤ ہے۔حکام کا ماننا ہے کہ ریلوے ٹریک کی معمول کی دیکھ بھال اور مرمت کا کام فنڈز کی کمی کے باعث بری طرح متاثر ہوا ہے، لیکن ان کا یہ بھی کہنا ہے حفاظتی اقدامات کے حوالے سے سرمایہ کاری میں تیزی آئی ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ بھارتی وزارتِ ریل نے ابھی تک 1998 میں کھنہ ریل حادثے کے تحقیقاتی رپورٹ شائع نہیں کی ہے۔ اس حادثے میں دو سو افراد مارے گئے تھے۔ اس حادثے کے فورا ً بعد بھارتی وزارتِ ریل کی ایک کمیٹی نے قدیم حفاظتی انتظامات کی فوری تبدیلی کا مطالبہ کیا تھا۔حکام نے تین ارب ڈالر کے ایک فنڈ کا بھی اعلان کیا تھا جو کہ نئی پٹڑیاں بچھانے اور حفاظتی انتظامات کی بہتری کے لیے استعمال ہونا تھا۔ بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ ریلوے حکام نے حفاظتی انتظامات پر کبھی بھی سمجھوتہ نہیں کیا ہے۔ ریلوے کے ترجمان ایم وائی صدیقی نے بی بی سی کو بتایا کہ حفاظتی انتظامات میں بہتری آ رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اب نہایت قلیل تعداد میں حادثے رونما ہو رہے ہیں۔ ریلوے حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ جس ملک میں روزانہ چودہ ہزار ٹرینیں چلتی ہوں وہاں حادثوں کا یہ تناسب بہت ہی معمولی ہے۔ اعدادوشمار کے اعتبار سے دیکھا جائے تو بھارتی سڑکوں پر حادثات میں ہلاک ہونے والوں کے مقابلے میں ٹرین حادثات میں مرنے والوں کی تعداد بہت کم ہے۔لیکن پھر بھی گزشتہ چند برس میں کئی بڑے ریل حادثے ہوئے ہیں جن میں سے زیادہ تر کی وجہ ٹرینوں کا آپس میں تصادم تھا۔
بھارتی ریلوے کی تاریخ کا بدترین حادثہ 1981 میں بِہار میں پیش آیا تھا جب ایک سائیکلون نے ایک ریل گاڑی کو پٹڑی سے اٹھا کر دریا برد کر دیا تھا ۔اس حادثے میں آٹھ سو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ہر حادثے کے نتیجے میں ایک تفتیش کا آغاز تو ہوتا ہے اور تفتیش کرنے والی زیادہ تر کمیٹیاں ریلوے انتظامیہ کے کردار پر سوال بھی اٹھاتی ہیں مگر انفراسٹرکچر کے ضمن میں سرمایہ کاری میں کمی کی وجہ سے مسافروں کی حفاظت کے اقدامات نہیں کیے جاتے۔ گزشتہ برسوں میں جن وجوہات کی بنا پر ریل حادثے رونما ہوئے ان میں سگنل نظام کی ناکامی، ریل کا پٹڑی سے اترنا، پلوں کا ٹوٹنا، ناقص حفاظتی انتظامات اور بم دھماکے بھی شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور سگنل نظام اور پٹڑی تبدیلی کے عمل میں کم سے کم انسانی شمولیت کی صورت میں زیادہ تر حادثوں سے بچا جا سکتا ہے۔ گو کہ چند ریل ٹریکوں پر سگنل کے فرسودہ نظام کو فائبر نظام سے تبدیل کیا گیا ہے اور بھاپ سے چلنے والے انجنوں کے جگہ ڈیزل اور بجلی سے چلنے والے جدید انجنوں نے لے لی ہے مگر پھر بھی ناقدین کا کہنا ہے کہ بھارتی ریلوے کے اس نظام کی مکمل تبدیلی کے لیے پیسے اور وقت کی ضرورت ہے |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||