بھارت میں بلٹ ٹرین کا منصوبہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستانی ریلوے کو جدید بنانے کی اسکیم کے تحت جاپان کی طرز پر بلٹ ٹرینیں چلائی جائیں گی۔ خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ وزیر ریل لالو پرساد یادو اس منصوبے کا اعلان جلدی ہی کرنے والے ہیں جس کے تحت ریل گاڑی کم سے کم ڈھائی سو کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلے گی۔ ریلوے حکام نے بتایا کہ اس بلٹ ٹرین کی شروعات ممبئی اور حیدرآباد کے درمیان ہوگی۔یہ ٹرین پانچ سو کلومیٹر کا فاصلہ دو گھنٹے سے کم وقت میں پورا کرے گی۔ ابھی سب سے تیز چلنے والی ٹرین شتابدی ایکسپریس یہ فاصلہ پانچ سے چھ گھنٹے میں طے کرتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ممبئی اور حیدر آباد کے درمیان بلٹ ٹرین کے اس منصوبے پر تقریباً آٹھ ہزار کروڑ روپے کا خرچ آئے گا۔ ریلوے کے حکام کا کہنا ہے کہ بلٹ ٹرین کے لیے الگ سے ایک ’ہائی اسپیڈ کوریڈور‘ بنایا جائے گا اور ریل کے راستے میں کوئی کراسنگ ، کھلی سڑک یا دوسری روکاوٹیں نہیں آئیں گی۔ محکمہ ریل کا کہنا ہے کہ بعد میں دھنباد ہاوڑہ ، ٹاٹا ہاوڑہ ، بنگلور چنئی، چنئی حیدرآباد اور ممبئی پنے جیسے شہروں کو بھی اس طرح آپس میں جوڑا جائے گا۔ جاپان کی دو کمپنیوں کو اس منصوبے پر غور کرنے کا کام پہلے ہی سونپ دیا گیا ہے۔ وزیر ریل لالو پرساد یادو پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ بلٹ ٹرین ان کی اولین ترجیحات میں سے ایک ہے۔ بلٹ ٹرین بنانے میں جاپانی سب سے آگے ہیں اور دنیا کے کئی حصوں میں انہوں نے تیز رفتار ٹرینوں کی شروعات کی ہے۔ ریل میں کلہڑ یعنی کہ مٹی کے پیالوں میں چائے دینے کا حکم جاری کرنے والے لالو یادو کے عہدے کی مدت کے دوران اس منصوبے پر عمل شروع ہو سکے گا یا نہیں یہ تو ابھی معلوم نہیں ہو سکا ہے کیونکہ ابھی یہ نہیں بتایا گیا کہ اس منصوبے کو شروع کرنے میں کتنا وقت لگے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||