پنجاب ٹرین حادثہ، چھتیس ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی ریاست پنجاب میں دو ٹرینوں کے حادثے میں مرنے والوں کی تعداد چھتیس ہو گئی ہے جبکہ ایک سو پچیس کے قریب لوگ زخمی ہو گئے ہیں۔ ان میں سے بہتر (72) کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔ پنجاب کے وزیر اعلٰی امریندر سنگھ نے اسمبلی میں بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ حادثے میں مرنے والوں کی تعداد پچاس تک پہنچ سکتی ہے۔ تاہم ریلوے حکام ابھی تک یہ تعداد پینتیس کے لگ بھگ بتا رہے ہیں۔
یہ واقعہ ضلع ہوشیار پور میں منسرگاؤں کے پاس مرتھالہ اور بانگر ریلوے سٹیشن کے درمیان پیش آیا۔ امدادی کارروائی جاری ہے اور زخمیوں کو ہسپتال پہنچایا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق پٹھاں کوٹ سےآنے والی مسافر گاڑی جموں احمدآباد ایکسپریس ٹرین سے ٹکرائی ہے جس سے کئی ڈبے پٹری سے نیچے اتر گئے۔ ابتدائی اطلاعات میں کہا گیا ہے اس حادثے میں ٹرین کا ایک ڈرائیور بھی ہلاک ہوا ہے۔ ریلوے کے وفاقی وزیر لالو پرشاد نے جائے حادثہ کا دورہ کیا ہے اور مرنے والوں کے ورثاء کو فوری طور پر ایک لاکھ اور بعد میں چار لاکھ کا معاوضہ دینے کے علاوہ نوکری دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔ پنجاب کے وزیر اعلٰی پہلے ہی متاثرین کے لئے ایک لاکھ فی کس کے معاوضے کا اعلان کر چکے ہیں۔ حالات کا جائزہ لینے کے لیۓ پنجاب روانہ ہورہے ہیں۔اس حادثے کی تفتیش کے احکامات بھی جاری کئے گيے ہیں کہ آخردو ٹرینیں آمنے سامنے سے کیسے ٹکرا گيئں۔ انڈیا میں دنیا کا ریلوے کا سب سے بڑا نظام ہے جس میں ہروز ایک لاکھ کلو میٹر کے ٹریکس پر تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ افراد ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||