BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 04 March, 2006, 07:44 GMT 12:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکہ کی قربت مہنگی پڑ رہی ہے
صدر مشرف
صدر مشرف کے لیئے پاکستان کو بطور علاقائی طاقت قائم رکھنا مشکل ہے
گیارہ ستمبر سنہ 2001 کے بعد سے ایشیا میں پاکستان کی پوزیشن بطور کلیدی امریکی اتحادی بہت زیادہ فیصلہ کن اور جنرل پرویز مشرف کی خارجہ پالیسی کا ایک متزلزل حصہ بن گئی ہے۔

اس کے نتیجے میں جنرل پرویز مشرف کی زندگی اور اور بطور صدرِ پاکستان ان کی پوزیشن کے لیے بھی خطرے میں اضافہ ہوا ہے۔

امریکی صدر بش کے دورۂ پاکستان کے موقع پر تھنک ٹینک چیتھم ہاؤس کی جانب سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور دیگر مغربی طاقتوں کو اس بات پر آنکھ بند کر کے یقین نہیں کر لینا چاہیے کہ پرویز مشرف کو پاکستان پر مکمل کنٹرول حاصل ہے اور یہ بھی ضروری نہیں کہ وہ مستقبل میں بھی اس منظر پر موجود رہیں گے۔

اس مقالے میں اس بات پر بھی بحث کی گئی ہے کہ جیسے جیسے پاکستان اور امریکہ کے سفارتی تعلقات میں قربت آ رہی ہے صدر مشرف کے لیے پاکستان کو بطور علاقائی طاقت قائم رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ پاکستان نہ صرف چین کے مرکزی علاقائی اتحادی کا رتبہ کھو رہا ہے بلکہ افغانستان میں بھی پاکستان کا روایتی اثر کم ہو رہا ہے۔

ایک ایسے ملک میں جہاں سیاسی حلقوں میں افغانستان میں حکومتی اثر کو ملک کی علاقائی سیاست میں پیمانے کے طور پر دیکھا جاتا ہے، پاکستان کے افغانستان میں کم ہوتے اثر کا جنرل پرویز مشرف کے سیاسی قد پر برا اثر پڑ سکتا ہے۔

اس کے علاوہ پاکستانی حکومت کی خارجہ پالیسی کے خلاف ملک کے اندر بڑھتی ہوئی بے چینی کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنرل مشرف پر اس وقت شدید دباؤ ہے کہ وہ بطور اتحادی امریکہ کی اتنی مدد نہ کریں جتنی وہ کرتے رہے ہیں۔ ایران پاکستان، انڈیا گیس پائپ لائن جیسے معاملات پر امریکی خارجہ اور سٹریٹجک پالیسی سے اختلاف اس دباؤ کا ہی نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔

اس مقالے کی شریک مصنفہ ڈاکٹر فرزانہ شیخ لکھتی ہیں کہ’مغربی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ جنرل پرویز مشرف کی خارجہ پالیسی میں آنے والی ان تبدیلیوں پر انہیں مزید ترغیبات دینے پر گریز کریں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کے سیاسی میدان میں ان تحریکوں کی حمایت کی جائے جن کے نتیجے میں ملک کا سیاسی منظر کھل کر سامنے آ سکے اور جنرل مشرف کے منظر سے ہٹنے کی صورت میں پیدا ہونے والے خلا کو پر کیا جا سکے‘۔

(یہ مقالہ کیمبرج یونیورسٹی کے سنٹر آف ساؤتھ ایشین سٹڈیز کے ایشیا پروگرام کی ایسوسی ایٹ فیلو ڈاکٹر فرزانہ شیخ اور بی بی سی ورلڈ سروس کے نامہ نگار اوون بینٹ جونز نے مشترکہ طور پر تحریر کیا ہے)

اسی بارے میں
جارج بش پاکستان پہنچ گئے
03 March, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد