BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 03 March, 2006, 11:49 GMT 16:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاک امریکی تعلقات ۔ تاریخی تناظر میں

ایوب خان نے امریکی دورے میں کہا تھا کہ پاکستان فوج کو اپنی فوج سمجھیں
ایوب خان نے امریکی دورے میں کہا تھا کہ پاکستان فوج کو اپنی فوج سمجھیں
صدر جارج بش پاکستان کے دو روزہ سرکاری دورے پر چار مارچ کو اسلام آباد آئیں گے۔ یہ سنہ انیس سو انہتر (1969) کے بعد چھتیس سال میں کسی امریکی صدر کا پاکستان کا پہلا تفصیلی دورہ ہے جبکہ اس دوران میں چھ سال پہلے صدر بل کلنٹن صرف چھ گھنٹوں کے لیے اسلام آباد آئے تھے۔

صدر بش پانچویں امریکی صدر ہیں جو پاکستان کا دورہ کریں گے۔ ان سے پہلے صدر آئزن ہاور (انیس سو انسٹھ)، صدر لنڈن جانسن (انیس سو سڑسٹھ)، صدر رچرڈ نکسن (انیس سو انہتر) اور صدر بل کلنٹن (سنہ دو ہزار) میں پاکستان کا دورہ کرچکے ہیں۔

پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کی ابتداء تو ملک کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کے دورۂ امریکہ میں رکھی جاچکی تھی لیکن یہ اس وقت زیادہ مضبوط ہوئے جب انیس سو پچاس کی دہائی کے شروع میں پاکستان نے باقاعدہ طور پر امریکہ کے ساتھ دفاعی سمجھوتے میں شمولیت اختیار کی۔

جون انیس سو ترپن میں جنرل ایوب خان نے امریکہ کے دورہ کے موقع پر کمیونزم کے خلاف اپنی خدمات پیش کیں اور کہا کہ ’اگر آپ چاہیں تو ہماری فوج آپ کی فوج ہوسکتی ہے۔‘ انیس سو چون میں دونوں ملکوں نے ایک مشترکہ دفاعی سمجھوتہ پر دستخط کیے۔

انیس سو ترپن سے انیس سو اکسٹھ کے درمیان امریکہ نے پاکستان کو پانچ سو ملین ڈالر سے زیادہ کی امداد فراہم کی۔ بھارت کے وزیراعظم جواہرلال نہرو اس پر نالاں تھے لیکن صدر آئزن ہاور نے انہیں یقین دلایا کہ پاکستان کو دیئے جانے والا اسلحہ بھارت کے خلاف جارحیت میں استعمال نہیں ہوگا۔

جون انیس سو ترپن میں جنرل ایوب خان نے امریکہ کے دورہ کے موقع پر کمیونزم کے خلاف اپنی خدمات پیش کیں اور کہا کہ ’اگر آپ چاہیں تو ہماری فوج آپ کی فوج ہوسکتی ہے۔‘ انیس سو چون میں دونوں ملکوں نے ایک مشترکہ دفاعی سمجھوتہ پر دستخط کیے۔

اس معاہدہ کے تحت پاکستان کی فوج کو پہلی بار جدید ہتھیار نصیب ہوئے۔ ان میں پیادہ فوج کے چار ڈویژنوں کے لیے سامان، چھ سو ٹینک، ایک سو بیس سیبر لڑاکا طیارے، دس لاک ہیڈ ٹی- تینتیس جیٹ طیارے اور مارٹن کینبرا بمبار شامل تھے۔

اس سال پاکستان نے امریکہ کے ساتھ ساؤتھ ایشیا ٹریٹی آرگنائزیشن (سیٹو) معاہدہ میں شمولیت اختیار کی اور پھر انیس سو پچپن میں بغداد پیکٹ میں شامل ہوا جس نے بعد میں سینٹو کے نام اختیار کیا۔

امریکی قیادت جنرل ایوب خان کو بہت پسند کرتی تھی۔ جب انہوں نے انیس سو اٹھاون میں ملک میں پہلا مارشل لگایا تو امریکہ نے اس کی مذمت نہیں کی بلکہ امریکی صدر ڈی وائٹ آئزن ہاور سات سے نو دسمبر انیس سوانسٹھ میں ایک غیرسرکاری دورہ پر پاکستان کے اس وقت دارالحکومت کراچی آئے اور جنرل ایوب خان سے ملاقات کی۔

اس موقع پر آئزن نے بھارت اور افغانستان کا دورہ بھی کیا تھا جیسے اس بار صدر بش بھی کریں گے۔

ایوب خان نے صدر کینیڈی کے دور میں بھی صدر کے طور پر جولائی سنہ انیس سو اکسٹھ میں امریکہ کا دورہ کیا۔ اسی سال اگست میں صدر کنیڈی نے پاکستان کو بارہ ایف ایک سو چار لڑاکا طیارہ بھی فراہم کیے۔

مؤرخین لکھتے ہیں کہ صدر ایوب خان نے کنیڈی سے کہا کہ وہ بھارت کو دی جانےوالی معاشی امداد کو لیوریج کے طور پر استعمال کرتے ہوئے اس پر دباؤ ڈالیں کہ وہ پاکستان سے کشمیر کا تنازعہ طے کرے۔

انیس سو اکیاسی میں صدر رونالڈ ریگن کا دور پاکستان اور امریکہ کے اچھے تعلقات کا دور ثابت ہوا۔

اسی تناظر میں پاکستان کے وزیرخارجہ ذوالفقار علی بھٹو اور بھارتی وزیرخارجہ سورن سنگھ کی ملاقاتیں ہوئیں لیکن بے نتیجہ رہیں۔

لنڈن جانسن ایوب خان کےبڑے مداح تھے لیکن ان کے دورِ صدارت میں پاکستان اور بھارت میں کشمیر پر انیس سو پینسٹھ کی جنگ ہوئی جسے انہوں نے سخت ناپسند کیا اور ان کے پاکستان سے تعلقات خراب ہوگئے۔ اسی سال امریکہ نے پاکستان اور بھارت دونوں ملکوں کی امداد بند کردی۔

تاہم جانسن کے دور میں ہی ان تعلقات کو دوبارہ بہتر بنانے کی کوشش شروع ہوئی۔صدر جانسن تئیس دسمبر انیس سو سڑسٹھ کو ویتنام سے روم جاتے ہوئے کراچی آئے اور ایوب خان سے ملاقات کی۔

رچرڈ نکسن صدر بنے تو انہوں نے صدر جنرل یحییٰ خان سے اچھے تعلقات قائم کیے۔ سوویت یونین سے سرد جنگ کے عروج کے زمانے میں صدر نکسن کمیونسٹ چین سے تعلقات قائم کرنا چاہتے تھے۔ پاکستان پہلے ہی چین سے دوستانہ روابط بنا چکا تھا۔

یکم اور دو اگست سنہ انیس سو انہتر کو صدر نکسن پاکستان کے دورے پر لاہور آئے اور انہوں نے یحییٰ خان سے ملاقات کی اور ان سے چین سے سفارتی روابط قائم کرنے میں پاکستان کا تعاون مانگا۔ جنرل یحیی خان نے ایسا کردکھایا اور ہنری کسنجر کو خفیہ طور پر بیجنگ بھجوایاجبکہ دنیا کو یہ معلوم تھا کہ وہ پاکستان کے پرفضا مقام مری میں ہیں۔

صدر نکسن اور ان کے وزیرخارجہ ہنری کسنجر کے زمانہ میں امریکی انتظامیہ کے پاکستان سے دوستانہ تعلقات تھے۔ سنہ انیس سو اکہتر میں بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی نے امریکہ کا دورہ کیا۔ مشرقی پاکستان میں پاکستان فوج کی کارروائی کے دوران میں اندرا گاندھی امریکہ سے پاکستان کو فوجی سامان کی فراہمی بند کرنے پر زور دیتی رہیں لیکن امریکہ نے خاصی دیر ایسا نہیں کیا۔

رچرڈ نکس کے دورہ میں ہنری کسنجر پاکستان سے چین گئے تھے

جب امریکہ نے اپنے ملکی قانون کے مطابق پاکستان کی فوجی امداد بند بھی کردی تو اردن سے اسے لڑاکا طیارے منتقل کروائے اور اپنے اتحادیوں ایران، سعودی عرب اور ترکی سے اس کی ایسی مدد کے لیے کہا۔ انیس سو اکہتر میں امریکہ نے بھارت اور پاکستان دونوں ملکوں کی امداد بند کی۔

انیس سو پچہتر میں امریکہ نے پاکستان کی امداد جزوی طور پر بحال کردی لیکن انیس سو اناسی میں جنرل ضیاالحق کے زمانہ میں یورینیم افزودہ کرنے کے لیے لیبارٹری بنانے پر امداد دوبارہ بند کردی۔

ستر کی دہائی کے دوران میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی منتخب حکومت کے دور میں امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات سرد مہری کا شکار رہے۔ یہ سرد مہری جنرل ضیاالحق کے ابتدائی زمانہ تک چلتی رہی۔ اسی دور میں یکم جنوری سنہ انیس سو اٹھہتر کو امریکی صدر جمی کارٹر بھارت کے دورہ پر گئے لیکن پاکستان نہیں آئے۔

امریکہ نے ایک بار پھر اپنی پالیسی اس وقت بدلی جب سوویت یونین کی فوجیں افغانستان میں داخل ہوئیں اور انیس سو اسی میں پاکستان کی امداد بحال کی۔ انیس سو اکیاسی میں صدر رونالڈ ریگن کا دور پاکستان اور امریکہ کے اچھے تعلقات کا دور ثابت ہوا۔

جس طرح صدر آئزن ہاور اور صدر جانسن نے جنرل ایوب خان سے اور صدر نکسن نے جنرل یحیی خان کی حکومتوں سے اچھے تعلقات قائم کیے تھے اسی طرح صدر ریگن نے پاکستان کے ایک اور فوجی حکمران جنرل ضیاء سے اچھے تعلقات استوار کیے۔

انیس سو اکیاسی میں امریکہ نے پاکستان کو تین بلین ڈالر سے زیادہ کی معاشی اور فوجی امداد کا پانچ سالہ پیکج دیا۔بعد میں انیس سو چھیاسی میں چار ارب ڈالر کا پیکج دیا۔

افغانستان سے سوویت یونین کے نکل جانے کے بعد اور پاکستان میں بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی منتخب حکومتوں کے دور میں امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں ایک بار پھر دوری آگئی۔

انیس سو نوے میں امریکہ کے صدر جارج بش سینئر نے پریسلر ترمیم کے قانون کے تحت پاکستان کے ایٹی پروگرام کے باعث امداد بند کردی۔ تاہم دو سال بعد غذائی اور معاشی امداد پر سے پابندی اٹھالی۔

انیس سو اٹھانوے میں پاکستان اور بھارت نے ایٹمی دھماکے کیے تو امریکہ نے دونوں ملکوں کی معاشی امداد بھی بند کردی اور صرف انسانی ہمدردی کے لیے دی جانےوالی معمولی معاشی اور غذائی امداد جاری رکھی۔

صدر بل کلنٹن نےامریکی خارجہ پالیسی میں بڑی تبدیلی لاتے ہوئے بھارت سے قریبی تعلقات کا آغاز کیا۔ وہ پانچ روزہ دورہ پر بھارت کے مختلف شہروں میں گئے لیکن پاکستان کی متعدد درخواستوں کے بعد بھارت کے دورہ کے اختتام پر پانچ گھنٹے کے لیے اسلام آباد آئے۔

جنرل پرویز مشرف کی فوجی حکومت آچکی تھی اور اس سے پہلے کارگل میں لڑائی کی وجہ سے پاکستان اور بھارت تعلقات بگڑ چکے تھے۔ صدر کلنٹن کے لیے افغانستان میں طالبان حکومت اور وہاں سے اسامہ بن لادن کے گروہ کی کاروائیاں باعث پریشانی تھے۔

ان حالات میں صدر کلنٹن نے بظاہر جنرل پرویزمشرف سے بہت سرد مہری سے پیش آئے۔ انہوں نے پاکستانی قوم سے خطاب میں خاصی سخت باتیں کیں اور پاکستان کو دنیا میں اپنی پالیسیوں کے باعث الگ تھلگ رہ جانے کی تنبیہہ کی۔ ان کا واضح پیغام تھا کہ پاکستان سرحدوں میں تبدیلی (کشمیر کا نام لیے بغیر) کے بجائے اقتصادی ترقی اور تعلقات کا سوچے۔

تاہم بعد میں ظاہر ہونے والی تفصیلات سے پتہ چلتا ہے کہ صدر بل کلنٹن نے صدر جنرل مشرف سے ملاقات میں درخواست کی تھی کہ پاکستان اسامہ بن لادن کو پکڑ کر امریکہ کو دے دیں تو وہ پاکستان کو زبردست معاشی مدد کریں گے۔ پاکستان نے ایسا نہیں کیا۔

گیارہ ستمبر دو ہزار ایک میں امریکہ پر مبینہ القاعدہ کے حملہ کے بعد پاکستان ایک بار پھر امریکہ کا اتحادی بن گیا۔ اس بار اس کا کردار کمیونزم کے خلاف امریکی کے اتحادی کا نہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ میں اس کے اتحادی کا ہے۔ اسے نان نیٹو اتحادی کا درجہ دیا گیا اور فوجی اور معاشی امداد بحال کردی گئی۔

اسی بارے میں
یہ دہشت گردی ہے: صدر بش
02 March, 2006 | پاکستان
بش کی آمد پر سکیورٹی سخت
03 March, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد