جارج بش پاکستان پہنچ گئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج ڈبلیو بش تین روزہ بھارت کے دورے کے بعد جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب مقامی وقت کے مطابق رات پونے نو بجے کے قریب پاکستان پہنچ گئے ہیں۔ انتہائی سخت سیکورٹی کے انتظامات میں ان کا طیارہ ’ایئر فورس ون‘ راولپنڈی کے چکلالہ ایئر بیس پر اترا۔ امریکی صدر کے ہمراہ ان کی اہلیہ لورا بش اور وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس بھی تھیں۔ وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری اور امریکی سفیر ریان سی کروکر نے ان کا ہوائی اڈے پر استقبال کیا جبکہ پاکستانی بچوں نے انہیں پھول پیش کیے۔ ہوائی اڈے پر حفاظتی انتطامات امریکی کمانڈوز نے سنبھال رکھے تھے جبکہ پاکستانی سیکورٹی فورسز بھی موجود رہیں۔ صدر بش کے طیارے کی آمد سے قبل دو طیارے اور آئے اور اس کے بعد صدر کا طیارہ اترا۔ انہیں سڑک کے ذریعے امریکی سفارتخانے لے جانے کے لیے دو ’لیموزین‘ گاڑیاں موجود رہیں لیکن مہمان صدر ہیلی کاپٹر کے ذریعے چکلالہ ایئر بیس سے روانہ ہوئے۔ رات کے وقت اکثر طور پر ہیلی کاپٹر پرواز نہیں کرتے لیکن حکام کا کہنا ہے جس ہیلی کاپٹر میں صدر بش روانہ ہوئے اس میں رات کے وقت پرواز کی فنی سہولیات موجود ہیں۔ کچھ عرصہ قبل سعودی عرب کے شہزادے عبداللہ کا استقبال کرنے کے لیے صدر جنرل پرویز مشرف کے ہوائی اڈے پر آنے کے بعد کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ امریکی صدر کا بھی خیرمقدم کرنے کے لیے میزبان صدر خود آئیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ امریکی صدر سنیچر کا پورا دن اسلام آباد میں مصروف گزاریں گے۔ وہ صدر جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کے علاوہ زلزلہ زدہ علاقوں میں تعمیر نو کے کاموں کے آغاز کے متعلق ایک بریفنگ بھی لیں گے جبکہ وہ کرکٹرز سے بھی ملیں گے۔ پروگرام کے مطابق وہ صدر جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کریں گے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کا نکتہ ان کے اعتبار سے اہم ہوگا جبکہ پاکستانی اعتبار سے صدر مشرف کے مطابق کشمیر، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور امریکی منڈیوں تک رسائی اور تجارتی مراعات بات چیت کے اہم نکات ہوں گے۔ پاکستان کی خواہشیں اور ترجیحات اپنی جگہ لیکن وہ بھارت کے ساتھ جوہری، زراعتی، ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں تعاون کے معاہدوں کے بعد پاکستان کو کیا پیکیج دیتے ہیں اس بارے میں سنیچر کو صورتحال سامنے آئے گی۔ بھارت کے اپنے تین روزہ دورے کے اختتام پر صدر بش نے دلی کے پرانے قلعے میں ایک تقریر کے دوران کہا کہ خوشحال اور جمہوری پاکستان نہ صرف امریکہ بلکہ انڈیا اور پوری دنیا کے مفاد میں ہے۔ | اسی بارے میں بش کی آمد پر سکیورٹی سخت03 March, 2006 | پاکستان پاک امریکی تعلقات ۔ تاریخی تناظر میں03 March, 2006 | پاکستان بش کےاعزاز میں عشائیے کا بائیکاٹ03 March, 2006 | پاکستان بش کا دورہ: خواہش اور حقیقت02 March, 2006 | پاکستان ’ کراچی بم دھماکہ سازش ہے‘02 March, 2006 | پاکستان امریکی قونصلیٹ پر تیسرا حملہ02 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||