پاک امریکہ توانائی مذاکرات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دفتر خارجہ میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون سے متعلق وفود کی سطح پر بات چیت ہوئی ہے۔ امریکی وفد کی قیادت توانائی کے وزیر سیموئل بوڈمین جبکہ پاکستانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے کی۔ امریکی وفد میں اسلام آباد میں تعینات امریکی سفیر اور دیگر حکام شامل ہیں جبکہ پاکستانی وفد میں خارجہ، پیٹرولیم اور پانی و بجلی کی وزارتوں کے سیکرٹری اور جوہری توانائی کے کمیشن کے سربراہ بھی شامل ہیں۔ امریکہ کے توانائی کے وزیر کا حالیہ دورۂ پاکستان امریکی صدر جارج ڈبلیو بش اور صدرِ پاکستان جنرل پرویز مشرف کی ملاقات میں طے پانے والے معاملات کو آگے بڑھانے کے لیے ہے۔ بات چیت کے دوران دونوں ممالک کے درمیان شہری جوہری پروگرام میں تعاون، ایران، ترکمانستان اور قطر سےگیس پائپ لائن بچھانے سمیت پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مختلف تجاویز پر غور ہوا۔ امریکی حکام ماضی میں ایران سے گیس پائپ لائن بچھانے کے خلاف بیانات دیتے رہے ہیں لیکن صدر بش نے چار مارچ کو کہا تھا کہ انہیں اس پر اعتراضات نہیں۔ امریکی حکام سے منسوب ان بیانات میں کہا جاتا رہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ ایران کے بجائے قطر یا ترکمانستان سے گیس لی جائے۔ پاکستان کہتا ہے کہ قطر سے گیس پائپ لائن سمندر سے لانی ہوگی اور اس پر لاگت بہت آئے گی اور ترکمانستان سے پائپ لائن افغانستان سے آنی ہے اور وہاں امن و امان کا مسئلہ ہے۔ ایسی صورتحال میں قیمت اور لاگت سمیت پاکستان ایران سے پائپ لائن لانے کو ترجیح دیتا رہا ہے۔ بھارت اور امریکہ کے درمیان شہری جوہری پروگرام میں تعاون کے معاہدے کے بعد پاکستان کی بھی خواہش اور کوشش ہے کہ امریکہ اس شعبے میں ان سے تعاون کرے لیکن ڈاکٹر قدیر خان کے جوہری پھیلاؤ میں ملوث ہونے کی وجہ سے امریکہ کو اس بارے میں تحفظات ہیں جس کا امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس کھل کر اظہار کر چکی ہیں۔ | اسی بارے میں امریکی وزیر دورۂ پاکستان پر11 March, 2006 | پاکستان ’توانائی کی ضرورت ہے‘28 February, 2006 | پاکستان ’اعلامیے میں کوئی ٹھوس بات نہیں‘04 March, 2006 | پاکستان ’صدربش نے لالی پاپ تک نہیں دیا‘05 March, 2006 | پاکستان امریکہ اور تیل کی سیاست10 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||