BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 04 March, 2006, 13:39 GMT 18:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’اعلامیے میں کوئی ٹھوس بات نہیں‘

اسلام آباد میں صدر بش اور صدر مشرف ایک ملاقات کے دوران
پاکستان اور امریکہ کے صدور کی ملاقات کے بعد جاری کردہ مشترکہ اعلامیے میں دونوں ممالک نے دفاع، تعلیم اور صحت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون جاری رکھنے پر تو اتفاق کیا ہے لیکن امریکہ نے کوئی پیکیج یا مخصوص امداد کا وعدہ تک نہیں کیا۔

کچھ مبصرین کی رائے ہے کہ بھارت کی نسبت پاکستان کے لیے صورتحال مایوس کن ہے کیونکہ کشمیر سے لے کر تجارتی مراعات تک کسی بھی معاملے میں مشترکہ بیان میں کسی ٹھوس بات کا ذکر نہیں۔ بیان میں کشمیر کا لفظ تک شامل نہیں البتہ نام لیے بنا اس تنازعے کے حل کا سرسری ذکر ضرور موجود ہے۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’دونوں ممالک نے طویل المدت سٹریٹیجک شراکت جاری رکھنے کا اعادہ کیا ہے۔ یہ شراکت مستحکم اور پائیدار جمہوریت کو مضبوط کرنے، جنوبی ایشیا اور دنیا بھر میں امن اور سلامتی کے فروغ کے لیے ہوگی۔‘

بیان کے مطابق دونوں ممالک نے اتفاق کیا ہے کہ وہ مشترکہ مفادات کے تحت تجارت اور سرمایہ کاری کو وسیع کرنے کے لیے تعاون کریں گے اور اس ضمن میں سرمایہ کاری کا معاہدہ کرنے کے لیے بات چیت کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔

دونوں رہنماؤں نے افغانستان کے ساتھ مل کر کام کرنے اور افغانستان اور پاکستان کو جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے لیے ایک زمینی پل بنانے کا عہد کیا ہے۔

توانائی پر ورکنگ گروپ
 پاکستان کی بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات کے تعین کے لیے ایک ورکنگ گروپ قائم ہوگا۔ یہ گروپ سرکاری اور نجی شعبوں میں وسیع توانائی کے وسائل کے بارے میں مل کر کام کرے گا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی عوام گزشتہ سال آٹھ اکتوبر کو آنے والے زلزلے سے ہونے والے نقصان پر پاکستانی عوام سے ہمدردی ظاہر کرتے ہیں۔ امریکی صدر نے اپنے عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستانی عوام کی بحالی اور تعمیر نو تک امریکہ ان کے ساتھ کھڑا ہوگا۔

دونوں صدور نے ہر نوعیت کی دہشت گردی کی مذمت کی اور دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جامع اور وسیع حکمت عملی اپنانے پر زور دیا۔ صدر بش نے اس جنگ میں تعاون پر صدر مشرف کا شکریہ ادا کیا۔

دونوں رہنماؤں نے ناانصافی، بدعنوانی کے خاتمے اور علاقائی اور عالمی سطح پر دہشت گردی کے خطرات کو کم کرنے کے لیے تعاون جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔

دونوں رہنماؤں نے دنیا کے مختلف مذاہب اور عقائد کے احترام، تحمل مزاجی اور ہم آہنگی کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا اور اتفاق کیا کہ ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جس سے بین العقائد ہم آہنگی میں رخنہ پیدا ہو۔

مشترکہ بیان کے مطابق دونوں صدور نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جامع امن مذاکرات کی حمایت کی اور جنوبی ایشیا کے بہتر مستقبل کے لیے دونوں ممالک (ہندوستان اور پاکستان) کے تعلقات بہتر کرنے اور تنازعات حل کرنے کی بھی حمایت کی۔ واضح رہے کہ مشترکہ بیان میں کشمیر کا ذکر یا لفظ تک شامل نہیں۔

دونوں سربراہان نے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے اسلحہ کے پھیلاؤ اور ایسا اسلحہ حاصل کرنے والے شدت پسند گروپوں کی کوشش سے عالمی استحکام کو لاحق خطرات پر تشویش کا اظہار کیا۔ دونوں رہنماؤں نے تباہ کن اسلحہ اور ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے عالمی کوششوں میں کلیدی کردار ادا کرنے کا عہد کیا۔

اسلام آباد میں سیلوٹ لیتے ہوئے امریکی صدر جارج بش
بیان میں بتایا گیا ہے کہ صدر بش اور صدر مشرف ’سٹریٹیجک پارٹنر شپ‘ کے تحت ’سٹریٹجک ڈائیلاگ‘ شروع کر رہے ہیں اور اس کی مشترکہ صدارت امریکی نائب وزیر خارجہ برائے سیاسی معاملات اور پاکستان کے سیکریٹری خارجہ کریں گے اور مستقل ملاقاتوں میں مشترکہ مفادات کے معاملات کی نظرثانی کریں گے۔

اس بات چیت کے تحت اقتصادی ترقی اور خوشحالی، توانائی، امن اور سلامتی، سماجی ترقی، سائنس اور ٹیکنالوجی، جمہوریت اور عدم پھیلاؤ کے موضوعات پر گفتگو ہوگی۔

دونوں صدور نے مضبوط مالیاتی ضابطوں پر عمل کرنے پر اتفاق کیا تاکہ غیرقانونی مالیاتی معاملات کو روکا جاسکے۔ امریکہ پاکستان کو اقتصادی ترقی اور سرمایہ کاری کے لیے تعاون اور سہولیات فراہم کرے گا۔ امریکہ نوجوانوں کو کاروباری تربیت کے لیے ایک ادارہ قائم کرنے کے لیے مالی معاونت فراہم کرے گا۔

مشترکہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ توانائی کے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس ہوگا اور اس میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات کے تعین کے لیے ایک ورکنگ گروپ قائم ہوگا۔ یہ گروپ سرکاری اور نجی شعبوں میں وسیع توانائی کے وسائل کے بارے میں مل کر کام کرے گا۔

بیان میں امن اور سلامتی کے بارے میں اتفاق کیا گیا ہے کہ ’روبسٹ، دفاعی تعلقات قائم کیے جائیں گے جو علاقائی سلامتی کو فروغ دے اور عالمی سلامتی کے لیے مددگار ثابت ہو۔‘

امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اہلیت بڑھانے کے لیے پاکستان کی قانونی دفاعی ضروریات پوری کرنے کے لیے مدد کا یقین دلایا ہے۔ انہوں نے عالمی سطح پر امن کے قیام، ٹیکنالوجی کی منتقلی، دفاعی خریداری، مشترکہ فوجی مشقوں اور دفاعی تربیت کے لیے دوطرفہ تعاون وسیع کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔

دونوں ممالک نے جنوبی ایشیا اور عالمی سطح پر امن اور سلامتی کو برقرار رکھنے اور اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں میں مشترکہ تشویش کے معاملات پر ایک دوسرے کے تعاون پر اتفاق کیا ہے۔

دونوں ممالک نے صحت اور تعلیم کے شعبوں میں تعاون بڑھانے اور تحقیقی اداروں کے درمیان رابطے قائم کرنے اور اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور تربیت کے لیے مدد فراہم کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ بیان میں دونوں ممالک کے سائنسی اداروں کے درمیان قریبی رابطہ رکھنے اور استفادہ کرنے کے لیے مشترکہ کمیٹی بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔

صدر بش، پاک دورہ
بش دورے سے پاکستانی توقعات کو جھٹکا: تجزیہ
جارج بُش اور منموہن سنگھماہرین کی تشویش
’بھارت کا جوہری معاہدہ پاکستان کے لیے دھچکہ‘
جنرل پرویز مشرفیہ مہنگا سودا ہے؟
صدر مشرف کو امریکی قربت مہنگی پڑ سکتی ہے
صدر پرویز مشرفپاک امریکہ تعلقات
کشمیر کا حل یا دفاعی اور معاشی تعاون
وہ آئے ہمارے گھر۔۔
’دلی کے بعد تو لاہور ہی بنتا ہے‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد