بش دورے سے توقعات کو جھٹکا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نہ تجارتی اور سرمایہ کاری کا سمجھوتہ، نہ نیوکلیائی تعاون، نہ کشمیر پر نئی بات۔ صدر جارج بش اور صدر جنرل پرویز مشرف کی مشترکہ پریس کانفرنس پاکستانی عوام کے لیے کوئی خوش خبری نہیں دے سکی۔ صدر مشرف بھی دورۂ بش کے بعد عوام کو کیا بتاسکیں گے کہ امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کردار ادا کرنے کے عوض وہ امریکہ سے کیا حاصل کرسکے۔ اس کے برعکس انہیں ملک میں جمہوریت اور اپنی فوجی وردی پر وضاحتیں پیش کرنی پڑیں۔ مشترکہ پریس کانفرنس میں صدر بش اور جنرل مشرف کی بات چیت سے دونوں کے ترجیحات کا فرق ظاہر تھا۔ دونوں کی باڈی لینگویج اور انداز گفتگو سے گرمجوشی کے بجائے محتاط رویہ ظاہر تھا۔ گرمجوشی کی کمی کا اظہار تواسی وقت ہوگیا تھا جب گزشتہ رات صدر جارج بش اور ان کی اہلیہ لورا بش کا ایئرپورٹ پر استقبال صدر پرویز مشرف یا وزیراعظم شوکت عزیز کی بجائے وزیر خارجہ خورشید قصوری نے کیا تھا۔ اس کے بعد پاکستان کے سرکاری دورہ پر آئے امریکی صدر حکومت پاکستان کے مہمان خانہ میں ٹھہرنے کے بجائے امریکی سفارت خانہ میں رہائش پذیر ہوئے۔ پاکستان کے لیے صدر بش کے دورہ میں تسلی کی صرف ایک ہی بات ہوسکتی ہے کہ وہ کم سے کم پاکستان کے دو دن کے دورہ پر آئے تو سہی۔ اس سے پہلے صدر کلنٹن بھارت میں پانچ دن گزارنے کے بعد صرف پانچ گھنٹے کے لیے پاکستان آئے تھے جبکہ صدر جمی کارٹر نے صرف بھارت کا دورہ کیا تھا اور پاکستان نہیں آئے تھے۔ امریکی صدر جارج بش کی جنرل مشرف کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں دونوں ملکوں کے درمیان نہ تو سرمایہ کاری کے سمجھوتے کا اعلان ہوا جس کا بڑا تذکرہ تھا اور نہ کشمیر پر صدر بش نے کوئی ایسی بات کی جو پاکستان کے لیے حوصلہ افزا ہو۔
پاکستان میں حکومت کی جانب سے کیے گئے پراپیگنڈے سے پیدا شدہ توقعات کے برعکس صدر بش نے کشمیر پر کوئی نیا موقف نہیں اختیار کیا۔ اس دورہ سے پہلے صدر مشرف کہہ رہے تھے کہ بات چیت کا محور کشمیر ہوگا۔ تاہم صدر بش نے اپنی پریس کانفرنس میں امریکہ کا پرانا موقف دہرایا کہ کشمیر پر امریکہ کا کردار یہ ہے کہ وہ دونوں ملکوں کو بات چیت میں سہولت مہیا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے قائدین ہی مسئلہ کا حل نکالیں گے۔ بش نے تو پاکستان میں کشمیر پر اتنی کھل کر بھی بات نہیں کی جتنی واشنگٹن میں ایشیا سوسائٹی کے خطاب میں کی تھی کہ کشمیر کا ایسا حل ممکن ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ بھارت میں ان کی وزیراعظم منموہن سنگھ سے بات چیت میں انہیں کشمیر پر ایسا حوصلہ افزا ردعمل نہیں ملا کہ وہ پاکستان میں کشمیر پر امریکہ کے روایتی موقف سے آگے کوئی نئی بات کرسکتے۔ جب سویلین نیوکلیائی تعاون کی بات ہوئی تو صدر بش نے پاکستانیوں کو صاف صاف کہہ دیا کہ بھارت اور پاکستان کی تاریخ مختلف ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ امریکہ کے انرجی سیکرٹری پاکستان آئیں گے تاکہ دونوں کے درمیان تعاون پر بات چیت ہوسکے۔ پریس کانفرنس کی ایک خاص بات یہ تھی کہ صدرمشرف بڑی تفصیل سے جمہوریت کے ثبوت کے لیے مقامی حکومتوں کے نظام کے جمہوری فوائد گنوائے، عورتوں کی نشستوں پر بات کی اور بتایا کہ انہوں نے میڈیا کو آزادی دی ہے۔ صدر مشرف کو وضاحت کرنی پڑی کہ ان کی فوجی وردی ایک بڑا ایشو ہے جس کے بارے میں سن دو ہزار سات کے بعد وہ آئین کے مطابق فیصلہ کریں گے۔ صدر بش نے پاکستان آنے سے پہلے کہا تھا کہ ان کا یہ دور بڑا اہم ہے لیکن آج کی پریس کانفرنس سے لگتا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان کوئی بھی نئی چیز حتمی طور پر طے نہیں پاسکی۔ |
اسی بارے میں ’جمہوری پاکستان دنیا کے مفاد میں‘03 March, 2006 | انڈیا انڈیا، امریکہ دنیا بدل سکتے ہیں: بش03 March, 2006 | انڈیا انڈیا،امریکہ کی جوہری شراکت03 March, 2006 | انڈیا جوہری معاہدے کا خیر مقدم03 March, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||